مومن خان مومن

جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا مومن خان مومن

28 January 2026

15سپیکرز
220لسنرز

سپیکرز

نگاہ بسمل کا پیش کردہ کلام

الٹے وہ شکوے کرتے ہیں اور کس ادا کے ساتھ

الٹے وہ شکوے کرتے ہیں اور کس ادا کے ساتھ بے طاقتی کے طعنے ہیں عذر جفا کے ساتھ بہر عیادت آئے وہ لیکن قضا کے ساتھ دم ہی نکل گیا مرا آواز پا کے ساتھ بے پردہ غیر پاس اسے بیٹھا نہ دیکھتے اٹھ جاتے کاش ہم بھی جہاں سے حیا کے ساتھ وہ لالہ رو گیا نہ ہو گلگشت باغ کو کچھ رنگ بوئے گل کے عوض ہے صبا کے ساتھ اس کی گلی کہاں یہ تو کچھ باغ خلد ہے کس جاے مجھ کو چھوڑ گئی موت لا کے ساتھ آتی ہے بوئے داغ شب تار ہجر میں سینہ بھی چاک ہو نہ گیا ہو قبا کے ساتھ گلبانگ کس کا مشورۂ قتل ہو گیا کچھ آج بوئے خوں ہے وہاں کی ہوا کے ساتھ تھے وعدے سے پھر آنے کے خوش یہ خبر نہ تھی ہے اپنی زندگانی اسی بے وفا کے ساتھ کوچہ سے اپنے غیر کا منہ ہے مٹا سکے عاشق کا سر لگا ہے ترے نقش پا کے ساتھ اللہ رے گمرہی بت و بت خانہ چھوڑ کر مومنؔ چلا ہے کعبے کو اک پارسا کے ساتھ

— مومن خاں مومن