سپیکرز
انتظار حسین کا پیش کردہ کلام
مجھ سے کچھ ایسا واسطہ رکھا
بحر : خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع فاعلاتن مفاعلن فِعْلن مجھ سے کچھ ایسا واسطہ رکھا پاس رہ کر بھی فاصلہ رکھا وہ رقیبوں سے میرے ملتا رہا اور مجھ سے بھی رابطہ رکھا دل کو تسلی دی کئی باتوں نے اس نے ہر زخم تازہ رکھا ہم نے چاہا تھا ایک ہونا بھی اس نے ہر موڑ پر دُوسرا رکھا کہہ کے سب کچھ بھی وہ نہ کہہ پایا لب پہ خاموشی کا پردہ رکھا میں نے چاہا تھا سچ کی نسبت ہو اس نے ہر سچ کو آدھا رکھا قرب کے نام پر جدائی دی دل کے آنگن میں سانحہ رکھا میں رہا عمر بھر اسی الجھن میں اس نے رشتہ بھی، مسئلہ رکھا قمرؔ قرب کے سب قرینوں میں اس نے مجھ کو ہی فاصلہ رکھا
زہر
اے چارہ گر، گر ہو سکے، تو بتادے مجھے میرے ہجر کی کتنی لمبی سزا ہے اور کوئی علاج ہے بھی یا نہیں کوئی مجھے زہر دے اگر نہیں تیرے پاس کوئی دوا ہے اور
ہم اور تم
دور عرش پر پرسکون رات چمکتے تارے مسکراتا مہتاب اور تم ۔۔۔۔! دور فرش پر گرجتی برسات گہرے سناٹے مرجھاتے گلاب اور ہم ۔۔۔۔! ستم ظریفی وقت کی بھی دیکھنی پڑی تیرے انتظار میں عمر ساری کاٹنی پڑی