راجا اکرام قمر

جب سے بچھڑا ہےتو بکھر گیا ہوں راجا اکرام صاحب کے ساتھ

24 December 2025

15سپیکرز
265لسنرز

سپیکرز

انتظار حسین کا پیش کردہ کلام

مجھ سے کچھ ایسا واسطہ رکھا

بحر : خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع فاعلاتن مفاعلن فِعْلن مجھ سے کچھ ایسا واسطہ رکھا پاس رہ کر بھی فاصلہ رکھا وہ رقیبوں سے میرے ملتا رہا اور مجھ سے بھی رابطہ رکھا دل کو تسلی دی کئی باتوں نے اس نے ہر زخم تازہ رکھا ہم نے چاہا تھا ایک ہونا بھی اس نے ہر موڑ پر دُوسرا رکھا کہہ کے سب کچھ بھی وہ نہ کہہ پایا لب پہ خاموشی کا پردہ رکھا میں نے چاہا تھا سچ کی نسبت ہو اس نے ہر سچ کو آدھا رکھا قرب کے نام پر جدائی دی دل کے آنگن میں سانحہ رکھا میں رہا عمر بھر اسی الجھن میں اس نے رشتہ بھی، مسئلہ رکھا قمرؔ قرب کے سب قرینوں میں اس نے مجھ کو ہی فاصلہ رکھا

— راجہ اکرام قمر

زہر

اے چارہ گر، گر ہو سکے، تو بتادے مجھے میرے ہجر کی کتنی لمبی سزا ہے اور کوئی علاج ہے بھی یا نہیں کوئی مجھے زہر دے اگر نہیں تیرے پاس کوئی دوا ہے اور

— راجہ اکرام قمر

ہم اور تم

دور عرش پر پرسکون رات چمکتے تارے مسکراتا مہتاب اور تم ۔۔۔۔! دور فرش پر گرجتی برسات گہرے سناٹے مرجھاتے گلاب اور ہم ۔۔۔۔! ستم ظریفی وقت کی بھی دیکھنی پڑی تیرے انتظار میں عمر ساری کاٹنی پڑی

— راجہ اکرام قمر