راجا اکرام قمر

جب سے بچھڑا ہےتو بکھر گیا ہوں راجا اکرام صاحب کے ساتھ

24 December 2025

15سپیکرز
265لسنرز

سپیکرز

ویکسین کا پیش کردہ کلام

کچھ نہیں ہوتا

کچھ نہیں ہوتا کوئی نہیں مرتا کچھ بھی نہیں ہوتا کسی کے روٹھ جانے سے کسی کے نہ منانے سے کچھ نہیں ہوتا کچھ بھی نہیں ہوتا بس رہ جاتی ہے ۔۔۔! ایک خلش بے نام سی ایک بے چینی بے لگام سی ایک اداسی اس کے نام کی اور جلملاہٹ نہ کسی کام کی کچھ سوکھے پھول گلاب کے اور مڑے ورق کتاب کے کچھ سمے ایک جا ٹھہرے ہوئے چند جملے کبھی نہ کہے ہوئے کچھ نہیں ہوتا کچھ بھی نہیں ہوتا کوئی بھی نہیں مرتا ہاں رہ جاتی ہیں ٹوٹی اینٹیں اجڑے مکان کی اور آسیبوں کے ساتھ محبت کسی بے جان کی

— راجہ اکرام قمر