سپیکرز
کریسنٹ کا پیش کردہ کلام
یوں ان کا بننا سنورنا زمانے کے لیے ہے
یوں ان کا بننا سنورنا زمانے کے لیے ہے اس دل ناتوا ں کو جلانے کے لیے ہے جو تم ہو وہ تم ہی یا پھر خدا جانے سر ائینہ کا حسن بس دکھانے کے لیے ہے وہ مسکرا کر ملنا ان کا غیروں سے محفل میں کیا ہم کو ستانے کے لیے ہے بے خوف و خطر اؤ تم گلی میں ہماری یہاں ہر بام کھلا تمہیں بلانے کے لیے ہے اب جو ائے ہو مزار پر ہمارے تو سن لینا یہ داستان عبرت تمہیں سنانے کے لیے ہے قمر جو لکھتا ہے سب تمہارے لیے ہے اکیلے میں تمہارے گنگنانے کے لیے ہے
کہے جو تجھ پہ وہ اشہار جھوٹ بولتے ہیں
کہے جو تجھ پہ وہ اشہار جھوٹ بولتے ہیں ہیں میرے اپنے مگر یار جھوٹ بولتے ہیں سمجھ رہا تھا جنہیں تیرا ایک مدت سے وہ سارے تیرے طرفدار جھوٹ بولتے ہیں عجب دور ادا کاریوں کا ایا ہے کہ بولنے کے ہیں فنکار، جھوٹ بولتے ہیں مرے چمن کی حفاظت جو کر نہیں سکتے گلوں کے ساتھ لگے خار جھوٹ بولتے ہیں فراق یار میں لطف و کرم نہیں ملتا نہ جانے کیوں یہ مرے یار جھوٹ بولتے ہیں نہ جانے کون سی مجبوریاں ہیں ان کو قمر تمام شہر کے اخبار جھوٹ بولتے ہیں