سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
اب یہ دل بھی کسی دن پتھر ہو گا
بحر: متدارک مربع مخلع مضاعف فاعلن فَعَل فاعلن فَعَل کافیہ : پتھر, مختصر, در ردیف : ہو گا اب یہ دل بھی کسی دن پتھر ہو گا زخم سہنے کا بھی اک ہنر ہو گا ہم نے مانا تھا جس کو عمر بھر وہی لمحہ سب سے مختصر ہو گا ریت پر نام لکھا تھا اس نے جانے کب موج کا وہ گھر ہو گا بولنے پر بھی سزا ملتی ہے چپ رہنا بھی یہاں خطر ہو گا کچھ تعلق جو نبھائے ہم نے ان کا بوجھ عمر بھر دل پر ہو گا آئینہ ٹوٹ کے یہ کہتا ہے ہر حقیقت کا کوئی در ہو گا ہجر کی رات میں قمرؔ نے جانا صبر ہی آخری مقدر ہو گا
دفن اس طرح مرے دل کے مقبرے میں ہوا
دفن اس طرح مرے دل کے مقبرے میں ہوا کہ خوابِ عمر فنا یاد کے حجرے میں ہوا وہ ایک لمسِ طلب، وہ نگاہِ نیم نگاہ تمام حاصلِ ہستی اسی لمحے میں ہوا ہم اپنے زخم چھپاتے رہے نگاہوں سے ہر ایک درد مگر ضبط کے پہرے میں ہوا وہ حرف جو لبِ خاموش پر ہی مر گیا تھا وہی بیان مرے دل کے کٹہرے میں ہوا نہ شورِ گریہ، نہ فریادِ آشکار ہوئی یہ حوصلہ بھی فقط صبر کے چہرے میں ہوا یہ دل جو مانگتا رہا کسی کی ایک نظر اسی سوال کا انجام اشارے میں ہوا نہ سنگِ لوح پہ نام و نشاں ملا آخر ہمارا ذکر فقط خاک کے نظارے میں ہوا قمرؔ! جو کہہ نہ سکے ہم، وہی کہا ہم نے یہ شعر بھی فقط اشکوں کے کنارے میں ہوا
بیٹھ کر میکدے میں جو شروع ہم نے تلقین کر دی
بیٹھ کر میکدے میں جو شروع ہم نے تلقین کر دی رند سارے جھوم اٹھے افرین افرین کر دے موضوع ہمارا بزم حسن تھا اور ہم نے حسن والوں کی حقیقت پیش سائمین کر دی ہر اک کی اپنی سوچ تھی ہر کوئی مدعے پہ ڈٹا حسن کو بے وفا، اور عاشقوں کی کچھ نے توہین کر دی وہ جو تھے حسن پرست، طرف حسن رہے ہر وقت وفادار کی انہوں نے بھی مثال اک بہترین کر دی شور و غل کے سماں میں کچھ دیر سکون پانے کو کھڑی دور بوتل ہم نے اپنے پھر قرین کر دی حضرت شیخ کیا پوچھیے ہنگامہ برپا تھا ہر طرف اس غریب قمر نے بھی تھک ہار کر بس امین کردی
قمر سحر کو جو تارے بھی چھپنے لگتے ہیں
قمر سحر کو جو تارے بھی چھپنے لگتے ہیں تب ان کے وعدے بھی ہم کو بہانے لگتے ہیں نہ اختیار میں رہتا ہے دل عجیب مرا یہ مان جاتا ہے، جب وہ بہلنے لگتے ہیں بس ایک مشغلہ تنہائی میں ہمارا ہے پرانی یادوں پہ انسو بہانے لگتے ہیں نہ پوچھو خوف کا عالم، نہیں بیاں ہوگا ہم اپنے شہر میں جاتے ہوئے بھی ڈرنے لگتے ہیں عزیز چائے ہوں جیسے بھی، یہ حقیقت ہے دیار غیر میں سب یاد انے لگتے ہیں