سپیکرز
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
میں نے لکھ دی میکدے کے نام تیرے بعد
میں نے لکھ دی مہکدے کے نام تیرے بعد یہ جو تھی اکیلی میری شام تیرے بعد میں لکھتا نہیں کچھ لکھوا دیا جاتا ہے اب کیا کروں جو ہو جائے الہام تیرے بعد تو جانتا ہے وقت کٹتا ہی نہیں مجھ سے میں تھک گیا ہوں کر کر کے کام تیرے بعد حضرت زاہد لے جا اس کو دور مجھ سے کہ لگ جاتا ہے لبوں سے کم بخت جام تیرے بعد ایک سیلاب سا گزرتا ہے روز میرے کمرے سے لذراتے رہتے ہیں اس کے در و بام تیرے بعد نہ جانے کس نگر میں گم ہو گئے ہو تم قمر چراغ شہر کے بجھنے لگے ہیں سر شام تیرے بعد
وہ لڑکی
سنا ہے چمن کا گلاب تھی وہ لڑکی سنا ہے فلک کا مہتاب تھی وہ لڑکی سنا ہے جب وه مسکراتی تھی چاکور چاند کو چھوڑ کر اسکی طرف اڑتا تھا سنا ہے اس کے شہر میں ایک لڑکا اسے بے پناہ چاہتا تھا اس پہ مرتا تھا سنا ہے تھوڑی سنگدل تھی وہ لڑکی سنا ہے اس لڑکے کو ملی ایک پل تھی وہ لڑکی سنا ہے اجاڑ بیٹھا ہے خود کو وہ لڑکا بے خبر رہتا ہے دنیا سے اس کے شہر میں وہ لڑکا سنا ہے ہر شب وہ چاند کو تکتا رہتا ہے پکارتا ہے اسکو ہر رات کی سحر میں وہ لڑکا سنا ہے اس شہر میں فاصلے پر ہیں اجڑے مزار دو سنا ہے ان مزاروں میں رہتی ہیں روحیں بیقرار دو سنا ہے بھول گئے ہیں اب لوگ داستاں ان کی سنا ہے ہوتی نہیں محفل میں ذکر بیاں ان کی
رب کرے وسیلہ کوئی تے دل دا درد تھم جاوے
رب کرے وسیلہ کوئی تے دل دا درد تھم جاوے ساون مکے اناں اکھیاں دا تے سکھ اے نم جاوے جدو شام ویلے گھر آویں گا مینوں بوہے تے تو نہ پاویں گا ویکھی دل نہ فیر اپنا ہولہ کریں مینوں یاد کریں میرے لئی تو پڑھیں مینوں کول ہی اپنے تو پاویں گا جدو شام ویلے گھر آویں گا نہیں کیتا اے کسے وی رقیباں مینوں لٹیا ای میرے ہی نصیباں جیت کہہ کے کنوں ہن بلاویں گا جدو شام ویلے گھر آییں گا کٹ گیا سفر پتا وی نہ چلیا کدی دکھاں وچ سی ساتھ نہ چھڈیا ہن کنوں قمر تو ستاویں گا جدو شام ویلے گھر آویں گا جدو شام ویلے گھر آویں گا مینوں بوہے تے تو نہ پاویں گا
ہاتھ میں تیرا ہاتھ اور سنگ زمانہ تھا
ہاتھ میں تیرا ہاتھ اور سنگ زمانہ تھا سمے جو بیت گیا کس قدر سہانا تھا وہ زندگی بھی تو تصویر بن گئی جیسے فضا بہار کی، چڑیوں کا کیا چہچہانا تھا تمہیں خیالوں میں رہنا ہے اس میں سنگ میرے وہ ایک مکاں ۔۔۔۔۔ جو کبھی میرا شیانہ تھا جو ڈھونڈتا ہوں میں تصویر میں گئے کل کو مزاج اپنا بھی کیسا وہ عاشقانہ تھا یوں کرچیوں میں قمر بانٹتے ہو کیوں خود کو یہ ائینہ تو فقط ۔۔۔۔آخری ٹھکانہ تھا