سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
رات ہاتھوں میں جام ہوتا ہے
رات ہاتھوں میں جام ہوتا ہے تصوراتی کلام ہوتا ہے اپ اک چاند کی طرح ٹھہرے دور ہی سے سلام ہوتا ہے وہ جنہیں دیکھتے تھے روز صبح اب تو یہ بھی حرام ہوتا ہے مجھ کو محسوس یہ ہوا اکثر ائینہ ہم کلام ہوتا ہے شہر میں اج قمر لیلی کے مجنوں ہی بدنام ہوتا ہے
جدائی کا موڑ
ایسا ہی موسم برسات کا تھا سرد ہوا اور وقت رات کا تھا انکھوں میں وہ موتی سجائے ۔۔۔۔ چپ کھڑی تھی گم سم !!! لب خاموش، کہا نہ جائے پھر کب اؤ گے تم ۔۔۔۔۔ اوجل پھر ہو گئی وہ اہستہ اہستہ ریل نے ایک موڑ جو کاٹا
غسل آخر نکھر گیا ہوں میں
غسل آخر نکھر گیا ہوں میں زیب تن کفن کر گیا ہوں میں تم یقین کیوں نہیں یہ کرلیتے اس کہانی میں مر گیا ہوں میں کرچیاں کرچیاں ہیں چاروں طرف آئینہ تھا بکھر گیا ہوں میں جب سے نکلا ہوں گھر کے آنگن سے تب سے ہو دربدر گیا ہوں میں خوبصورت تھے آئینے کے ادھر عکس دیکھا تو ڈر گیا ہوں میں ہو زمیں پر نہ گرچہ رہنے کو گھر آسمانوں میں کر گیا ہوں میں تیری یادوں میں ڈوب کر جاناں بن فلک کا قمر گیا ہوں میں
یہ رستہ جو تری آنکھوں سے ترے دل کو ہے
**** قطعہ**** یہ رستہ جو تری آنکھوں سے ترے دل کو ہے نہ جانے کتنی کٹھن مسافتوں کا ہے شام سے پہلے ہی اپنے گھر لوٹ آنا قمر آسماں پر ڈیرہ آج گھنے بادلوں کا ہے