راجا اکرام قمر

جب سے بچھڑا ہےتو بکھر گیا ہوں راجا اکرام صاحب کے ساتھ

24 December 2025

15سپیکرز
265لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

رات ہاتھوں میں جام ہوتا ہے

رات ہاتھوں میں جام ہوتا ہے تصوراتی کلام ہوتا ہے اپ اک چاند کی طرح ٹھہرے دور ہی سے سلام ہوتا ہے وہ جنہیں دیکھتے تھے روز صبح اب تو یہ بھی حرام ہوتا ہے مجھ کو محسوس یہ ہوا اکثر ائینہ ہم کلام ہوتا ہے شہر میں اج قمر لیلی کے مجنوں ہی بدنام ہوتا ہے

— راجہ اکرام قمر

جدائی کا موڑ

ایسا ہی موسم برسات کا تھا سرد ہوا اور وقت رات کا تھا انکھوں میں وہ موتی سجائے ۔۔۔۔ چپ کھڑی تھی گم سم !!! لب خاموش، کہا نہ جائے پھر کب اؤ گے تم ۔۔۔۔۔ اوجل پھر ہو گئی وہ اہستہ اہستہ ریل نے ایک موڑ جو کاٹا

— راجہ اکرام قمر

غسل آخر نکھر گیا ہوں میں

غسل آخر نکھر گیا ہوں میں زیب تن کفن کر گیا ہوں میں تم یقین کیوں نہیں یہ کرلیتے اس کہانی میں مر گیا ہوں میں کرچیاں کرچیاں ہیں چاروں طرف آئینہ تھا بکھر گیا ہوں میں جب سے نکلا ہوں گھر کے آنگن سے تب سے ہو دربدر گیا ہوں میں خوبصورت تھے آئینے کے ادھر عکس دیکھا تو ڈر گیا ہوں میں ہو زمیں پر نہ گرچہ رہنے کو گھر آسمانوں میں کر گیا ہوں میں تیری یادوں میں ڈوب کر جاناں بن فلک کا قمر گیا ہوں میں

— راجہ اکرام قمر

یہ رستہ جو تری آنکھوں سے ترے دل کو ہے

**** قطعہ**** یہ رستہ جو تری آنکھوں سے ترے دل کو ہے نہ جانے کتنی کٹھن مسافتوں کا ہے شام سے پہلے ہی اپنے گھر لوٹ آنا قمر آسماں پر ڈیرہ آج گھنے بادلوں کا ہے

— راجہ اکرام قمر