راجا اکرام قمر

جب سے بچھڑا ہےتو بکھر گیا ہوں راجا اکرام صاحب کے ساتھ

24 December 2025

15سپیکرز
265لسنرز

سپیکرز

امل خان کا پیش کردہ کلام

پہروں قمر کو دیکھے گا وہ شخص میرے بعد

پہروں قمر کو دیکھے گا وہ شخص میرے بعد سب سے مرا ہی پوچھے گا وہ شخص میرے بعد ویرانیاں رہیں گی مرے گھر کے صحن میں کس کو گلے لگائے گا وہ شخص میرے بعد پہروں اکیلا بیٹھے گا وہ شخص میرے بعد کانپیں گے اس کے ہاتھ کئی بار دیکھنا اشکو کو جب بھی پونچھے گا وہ شخص میرے بعد تربت پہ میری آئے گا وہ دن میں بھی بارہا شب بھی وہیں بتائے گا وہ شخص میرے بعد دھوئے گا میری قبر کو ہر شام، اور پھر سرہانے پھول رکھے گا وہ شخص میرے بعد پوچھا نہ زندگی میں کبھی ایک بار بھی برسوں قمر کا پوچھے گا وہ شخص میرے بعد

— راجہ اکرام قمر

اب اس دل کو کسی سے کیا ہو گا

اب اس دل کو کسی سے کیا ہو گا ہر اک رشتہ ہی آخر تنہا ہو گا ہم نے چاہا تھا جسے نامِ وفا اس کے حصے میں فقط اپنی جفا ہو گا خواب ٹوٹے تو یہی بات کھلی جاگنے کا بھی جدا اک مزا ہو گا تو نے اوڑھی ہے زمانے کی قبا میرا سچ پھر بھی برہنا ہو گا خامشی اوڑھ کے جیتا ہوں میں یہ بھی اک قرضِ زمانہ ہو گا ہجر کی راکھ میں قمرؔ نے لکھا جیت کا نام ہی دراصل ہارا ہو گا

— راجہ اکرام قمر

وہ راہ کہ جس کے موڑ پہ بیٹھا قمر برسوں

وہ راہ کہ جس کے موڑ پہ بیٹھا قمر برسوں گزرا نہ کوئی بھی وہاں سے مگر برسوں بنا تمہارے زندگی لگی مختصر برسوں ناز ضبط رہا، رہی انکھیں تر برسوں میرے انگن میں کھڑے چپ چاپ پیپل نے ہوتے دیکھا میری دعاؤں کو بےاثر برسوں اپنی بوجھل شام کی اداس ہوا سے پوچھتا رہا میں تیری خبر برسوں سناٹا تھا، تیرگی تھی اور بس یاد تیری کرتے رہے ہم بھی انتظار سحر برسوں سنتے تھے دعا قبول ہوتی ہے ہر اک کی وہاں باندھے ہم نے بھی دھاگے اس شجر پر برسوں ائے گا بس ابھی، اسی اس پر زندگی کو کہا، ایک لمحہ ٹھہر برسوں حسین تھا، بس ذرا بیگانہ وفا تھا وہ اک شخص جس نے رکھا در بدر برسوں اتش عشق ہے تو یادیں چنگاریاں اس کی رہے دھواں، چاہے برسے ابر برسوں تپش ھجر میں نہ کندن بنا قبر نہ راکھ سزا ہی ملی ایسی، نہ ہوئی سر پرسوں

— راجہ اکرام قمر