سپیکرز
امل خان کا پیش کردہ کلام
پہروں قمر کو دیکھے گا وہ شخص میرے بعد
پہروں قمر کو دیکھے گا وہ شخص میرے بعد سب سے مرا ہی پوچھے گا وہ شخص میرے بعد ویرانیاں رہیں گی مرے گھر کے صحن میں کس کو گلے لگائے گا وہ شخص میرے بعد پہروں اکیلا بیٹھے گا وہ شخص میرے بعد کانپیں گے اس کے ہاتھ کئی بار دیکھنا اشکو کو جب بھی پونچھے گا وہ شخص میرے بعد تربت پہ میری آئے گا وہ دن میں بھی بارہا شب بھی وہیں بتائے گا وہ شخص میرے بعد دھوئے گا میری قبر کو ہر شام، اور پھر سرہانے پھول رکھے گا وہ شخص میرے بعد پوچھا نہ زندگی میں کبھی ایک بار بھی برسوں قمر کا پوچھے گا وہ شخص میرے بعد
اب اس دل کو کسی سے کیا ہو گا
اب اس دل کو کسی سے کیا ہو گا ہر اک رشتہ ہی آخر تنہا ہو گا ہم نے چاہا تھا جسے نامِ وفا اس کے حصے میں فقط اپنی جفا ہو گا خواب ٹوٹے تو یہی بات کھلی جاگنے کا بھی جدا اک مزا ہو گا تو نے اوڑھی ہے زمانے کی قبا میرا سچ پھر بھی برہنا ہو گا خامشی اوڑھ کے جیتا ہوں میں یہ بھی اک قرضِ زمانہ ہو گا ہجر کی راکھ میں قمرؔ نے لکھا جیت کا نام ہی دراصل ہارا ہو گا
وہ راہ کہ جس کے موڑ پہ بیٹھا قمر برسوں
وہ راہ کہ جس کے موڑ پہ بیٹھا قمر برسوں گزرا نہ کوئی بھی وہاں سے مگر برسوں بنا تمہارے زندگی لگی مختصر برسوں ناز ضبط رہا، رہی انکھیں تر برسوں میرے انگن میں کھڑے چپ چاپ پیپل نے ہوتے دیکھا میری دعاؤں کو بےاثر برسوں اپنی بوجھل شام کی اداس ہوا سے پوچھتا رہا میں تیری خبر برسوں سناٹا تھا، تیرگی تھی اور بس یاد تیری کرتے رہے ہم بھی انتظار سحر برسوں سنتے تھے دعا قبول ہوتی ہے ہر اک کی وہاں باندھے ہم نے بھی دھاگے اس شجر پر برسوں ائے گا بس ابھی، اسی اس پر زندگی کو کہا، ایک لمحہ ٹھہر برسوں حسین تھا، بس ذرا بیگانہ وفا تھا وہ اک شخص جس نے رکھا در بدر برسوں اتش عشق ہے تو یادیں چنگاریاں اس کی رہے دھواں، چاہے برسے ابر برسوں تپش ھجر میں نہ کندن بنا قبر نہ راکھ سزا ہی ملی ایسی، نہ ہوئی سر پرسوں