راجا اکرام قمر

جب سے بچھڑا ہےتو بکھر گیا ہوں راجا اکرام صاحب کے ساتھ

24 December 2025

15سپیکرز
265لسنرز

سپیکرز

سجاد رضا کا پیش کردہ کلام

تم سے بچھڑ کر وحشتوں کا آئینہ ہو گیا

تم سے بچھڑ کر وحشتوں کا آئینہ ہو گیا دل ہر اک بے نام صدمے کا نشانہ ہو گیا یاد کی بارش میں بھیگے زخم ہنستے ہی رہے تیرا جانا زندگی کا ایک قصہ ہو گیا خواب سب ٹوٹے تو آنکھوں میں عجب سناٹا تھا رات بھر دل بے بسی کا کارخانہ ہو گیا ایک پل میں چھن گئی دنیا، بدل سا ہی گیا جو کبھی میرا تھا وہی اجنبی سا ہو گیا تجھ سے منسوب تھی جو ہر ایک دعا کی روشنی دور جا کر وہی رشتہ بے وفا ہو گیا خامشی نے اوڑھ لی جب ہجر کی کالی ردا ہر سخن سینے میں اک چیختا نغمہ ہو گیا ہم نے ہر درد کو چہرے پہ سجا کر رکھا تبسم بھی ترے بعد اک بلا ہو گیا تنہائی نے لکھ دی تقدیر آنکھوں کے لیے ہر نظر میں ہجر کا ہی تذکرہ ہو گیا دل نے کب مانا کہ یہ سب عارضی سا دکھ ہے وقت گزرا تو یہی دکھ مستقل سا ہو گیا قمرؔ اب کس سے کہو گے دل کا یہ بکھرا ہوا حال عشق میں جینا بھی اک وحشی قرینہ ہو گیا

— راجہ اکرام قمر