سپیکرز
ایم سعید کا پیش کردہ کلام
جس سے دل لگاؤ رولایا نہیں کرتے
جس سے دل لگاؤ رولایا نہیں کرتے جلی کٹی کبھی سنایا نہیں کرتے کیا احسان دل دے کر تو جتلایا نہیں کرتے بڑا انمول ہے اخلاص یوں لوٹیا نہیں کرتے مریض دل دواؤں سے شفا پایا نہیں کرتے صنم پتھر کے ہی اچھے جو ٹھکرایا نہیں کرتے قمر کوچے میں یاراں کے یوں گھبرایا نہیں کرتے
چہرہ تو ہوتا ہے ایک اخبار کی طرح
چہرہ تو ہوتا ہے ایک اخبار کی طرح ملتے ہو کیوں پھر کسی اداکار کی طرح گفتگو کے پانچ گر، گر جو سمجھ جاؤ سماجی زندگی ہو جائے سنگھار کی طرح کرو نہ خود کلامی کسی بھی محفل میں معنی خیز گفتگو ہوتی ہے اک بیمار کی طرح سوال پوچھنے کے عمل کو دوہراؤ بار بار لوگ سمجھنے لگیں تمہیں سمجھدار کی طرح سوچو خود کو دوسروں کی جگہ پر رکھ کر ہمدردی کرو مگر ایک ایماندار کی طرح کوئی عنوان تو ہو تمہاری گفتار محفل کا باتیں نہ کرنا کبھی ریخْتَہ گفتار کی طرح اثر پڑے نہ تعلقات پر کسی بھی بات کا محفل میں قمر بات کر ایماندار کی طرح
غسل آخر نکھر گیا ہوں میں
غسل آخر نکھر گیا ہوں میں زیب تن کفن کر گیا ہوں میں تم یقین کیوں نہیں یہ کرلیتے اس کہانی میں مر گیا ہوں میں کرچیاں کرچیاں ہیں چاروں طرف آئینہ تھا بکھر گیا ہوں میں جب سے نکلا ہوں گھر کے آنگن سے تب سے ہو دربدر گیا ہوں میں خوبصورت تھے آئینے کے ادھر عکس دیکھا تو ڈر گیا ہوں میں ہو زمیں پر نہ گرچہ رہنے کو گھر آسمانوں میں کر گیا ہوں میں تیری یادوں میں ڈوب کر جاناں بن فلک کا قمر گیا ہوں میں