راجا اکرام قمر

جب سے بچھڑا ہےتو بکھر گیا ہوں راجا اکرام صاحب کے ساتھ

24 December 2025

15سپیکرز
265لسنرز

سپیکرز

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

جس سے دل لگاؤ رولایا نہیں کرتے

جس سے دل لگاؤ رولایا نہیں کرتے جلی کٹی کبھی سنایا نہیں کرتے کیا احسان دل دے کر تو جتلایا نہیں کرتے بڑا انمول ہے اخلاص یوں لوٹیا نہیں کرتے مریض دل دواؤں سے شفا پایا نہیں کرتے صنم پتھر کے ہی اچھے جو ٹھکرایا نہیں کرتے قمر کوچے میں یاراں کے یوں گھبرایا نہیں کرتے

— راجہ اکرام قمر

چہرہ تو ہوتا ہے ایک اخبار کی طرح

چہرہ تو ہوتا ہے ایک اخبار کی طرح ملتے ہو کیوں پھر کسی اداکار کی طرح گفتگو کے پانچ گر، گر جو سمجھ جاؤ سماجی زندگی ہو جائے سنگھار کی طرح کرو نہ خود کلامی کسی بھی محفل میں معنی خیز گفتگو ہوتی ہے اک بیمار کی طرح سوال پوچھنے کے عمل کو دوہراؤ بار بار لوگ سمجھنے لگیں تمہیں سمجھدار کی طرح سوچو خود کو دوسروں کی جگہ پر رکھ کر ہمدردی کرو مگر ایک ایماندار کی طرح کوئی عنوان تو ہو تمہاری گفتار محفل کا باتیں نہ کرنا کبھی ریخْتَہ گفتار کی طرح اثر پڑے نہ تعلقات پر کسی بھی بات کا محفل میں قمر بات کر ایماندار کی طرح

— راجہ اکرام قمر

غسل آخر نکھر گیا ہوں میں

غسل آخر نکھر گیا ہوں میں زیب تن کفن کر گیا ہوں میں تم یقین کیوں نہیں یہ کرلیتے اس کہانی میں مر گیا ہوں میں کرچیاں کرچیاں ہیں چاروں طرف آئینہ تھا بکھر گیا ہوں میں جب سے نکلا ہوں گھر کے آنگن سے تب سے ہو دربدر گیا ہوں میں خوبصورت تھے آئینے کے ادھر عکس دیکھا تو ڈر گیا ہوں میں ہو زمیں پر نہ گرچہ رہنے کو گھر آسمانوں میں کر گیا ہوں میں تیری یادوں میں ڈوب کر جاناں بن فلک کا قمر گیا ہوں میں

— راجہ اکرام قمر