سپیکرز
روح من کا پیش کردہ کلام
ہمارے دل میں وہ رہتا ہے جو مکیں کہیں اور ہے
ہمارے دل میں وہ رہتا ہے جو مکیں کہیں اور ہے نظر کے سامنے ہو کر بھی وہ جبیں کہیں اور ہے یہ اداسی، یہ ہجر، یہ خامشی کا سلسلہ لبوں پہ مسکراہٹ ہے، پر یقیں کہیں اور ہے ہم اپنے دکھ چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے کہانی کچھ سنائی جائے، یقیں کہیں اور ہے وہ ساتھ چل کے بھی تنہا ہمیں چھوڑ جاتا ہے قدم یہیں پہ ٹھہرے ہیں، مگر زمیں کہیں اور ہے یہ آنکھ نم ہے مگر آنسو نہیں گواہی میں جو درد دل میں پلتا ہے وہ ہم نشیں کہیں اور ہے ہم اپنی ذات کو کھو کر بھی ڈھونڈتے ہیں اسے وجود اپنا یہیں ہے، وہ مکیں کہیں اور ہے ہمیں جو درد ملا ہے وہ بانٹتے کیسے زمانہ ساتھ تو ہے، پر قرین کہیں اور ہے وہی چہرہ، وہی لہجہ، وہی باتیں ساری مگر دل کا وہ پہلا سا سکیں کہیں اور ہے ہماری نیند بھی اب ہم سے روٹھ سی گئی ہے بدن یہیں پہ ہے لیکن سکیں کہیں اور ہے ہم اس کی بزم میں شامل تو روز ہوتے ہیں مگر جو دل کو لگے وہ نشیں کہیں اور ہے تمام عمر جسے ہم نے اپنا سمجھا قمرؔ وہی تو سب سے زیادہ، قرین کہیں اور ہے
کچھ یادوں کی شکل میں کہانی چھوڑ جائیں گے
کچھ یادوں کی شکل میں کہانی چھوڑ جائیں گے ہم محبت کی اک مہکتی نشانی چھوڑ جائیں گے ہماری باتوں سے مکمل افسانے ہوا کریں گے ہم لفظوں کی اک ایسی روانی چھوڑ جائیں گے غزل بیاں ہو گئی عاشقوں کی زبان سے ہماری ہم شعروں میں ایسی سِحْر بَیانی چھوڑ جائیں گے دوست کبھی نہ پاؤ گے ہم سا کوئی بھی دوستو ہم جہاں میں اپنے جیسا نہ ثانی چھوڑ جائیں گے انداز اپنا لیں گے لوگ ہماری ہی گفتار کا ہم کچھ اس طرح کی سخن بیانی چھوڑ جائیں گے یاد جس کو پھر کرے گا زمانہ برسوں یارو ہم ایک اسی داستاں عالم جوانی چھوڑ جائیں گے کچھ اور نہ بھی چھوڑ سکے تو وعدہ رہا قمر زندگی کی محفلوں میں اشک فشانی چھوڑ جائیں گے
درد دل سب کو سنا کے دیکھ لیا
درد دل سب کو سنا کے دیکھ لیا ترے شہر میں آ کے دیکھ لیا سنگدل کے سنگدل ہی رہے داغ جگر دکھا کے دیکھ لیا نادان ہیں، ہوجائیں اسی کے ہم جس نے بھی مسکرا کے دیکھ لیا باتیں کریں بیٹھ کر گورستان میں زندہ لوگوں کو آزما کے دیکھ لیا پیچھا نہ چھوڑیں یادیں تیری مہکدے بھی جا کر دیکھ لیا شوق جاناں کی بس کرے ہے ضد لاکھ دل کو سمجھا کے دیکھ لیا سنگت ہمیں راس نہ آئی کوئی بھی قمر تنہائی کو بھی گلے لگا کے دیکھ لیا