فرحت عباس شاہ

کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)

09 December 2025

21سپیکرز
291لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعد

تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعد کتنے چپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد اتنے چپ چاپ کہ رستے بھی رہیں گے لا علم چھوڑ جائیں گے کسی روز نگر شام کے بعد میں نے ایسے ہی گنہ تیری جدائی میں کئے جیسے طوفاں میں کوئی چھوڑ دے گھر شام کے بعد شام سے پہلے وہ مست اپنی اڑانوں میں رہا جس کے ہاتھوں میں تھے ٹوٹے ہوئے پر شام کے بعد رات بیتی تو گنے آبلے اور پھر سوچا کون تھا باعث آغاز سفر شام کے بعد تو ہے سورج تجھے معلوم کہاں رات کا دکھ تو کسی روز مرے گھر میں اتر شام کے بعد لوٹ آئے نہ کسی روز وہ آوارہ مزاج کھول رکھتے ہیں اسی آس پہ در شام کے بعد

— فرحت عباس شاہ

جو اس کے چہرے پہ رنگ حیا ٹھہر جائے

جو اس کے چہرے پہ رنگ حیا ٹھہر جائے تو سانس، وقت، سمندر، ہوا ٹھہر جائے وہ مسکرائے تو ہنس ہنس پڑیں کئی موسم وہ گنگنائے تو باد صبا ٹھہر جائے سبک خرام صبا چال چل پڑے جب بھی ہزار پھول سر راہ آ ٹھہر جائے وہ ہونٹ ہونٹوں پہ رکھ دے اگر دم آخر مجھے گماں ہے کہ آئی قضا ٹھہر جائے میں اس کی آنکھوں میں جھانکوں تو جیسے جم جاؤں وہ آنکھ جھپکے تو چاہوں ذرا ٹھہر جائے

— فرحت عباس شاہ