فرحت عباس شاہ

کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)

09 December 2025

21سپیکرز
291لسنرز

سپیکرز

نایاب کا پیش کردہ کلام

کبھی سحر تو کبھی شام لے گیا مجھ سے

کبھی سحر تو کبھی شام لے گیا مجھ سے تمہارا درد کئی کام لے گیا مجھ سے مجھے خبر نہ ہوئی اور زمانہ جاتے ہوئے نظر بچا کے ترا نام لے گیا مجھ سے اسے زیادہ ضرورت تھی گھر بسانے کی وہ آ کے میرے در و بام لے گیا مجھ سے بھلا کہاں کوئی جز اس کے ملنے والا تھا بس ایک جرأت ناکام لے گیا مجھ سے بس ایک لمحے کے سچ جھوٹ کے عوض فرحتؔ تمام عمر کا الزام لے گیا مجھ سے

— فرحت عباس شاہ

کہاں میں کہاں ہو تم

کہاں میں کہاں ہو تم جواب آیا جہاں ہو تم مرے جیون سے ظاہر ہو مرے غم میں نہاں ہو تم مری تو ساری دنیا ہو مرا سارا جہاں ہو تم مری سوچوں کے محور ہو مرا زور بیاں ہو تم میں تو لفظ محبت ہوں مگر میری زباں ہو تم

— فرحت عباس شاہ

پھول کی سکھ کی صبا کی زندگی

پھول کی سکھ کی صبا کی زندگی مختصر ہے کیوں وفا کی زندگی کس نے دیکھا ہے خدا کی موت کو کس نے دیکھی ہے خدا کی زندگی ہاتھ پاؤں مارنا بے کار ہے جی رہے ہیں ہم خلا کی زندگی بارہا بھی موت سے ہے سامنا آزما لی بارہا کی زندگی درد سہنے کا الگ انداز ہے جی رہے ہیں ہم ادا کی زندگی چاہے جنگل ہوں یا صحرا یا نگر اصل میں تو ہے ہوا کی زندگی

— فرحت عباس شاہ