سپیکرز
نایاب کا پیش کردہ کلام
کبھی سحر تو کبھی شام لے گیا مجھ سے
کبھی سحر تو کبھی شام لے گیا مجھ سے تمہارا درد کئی کام لے گیا مجھ سے مجھے خبر نہ ہوئی اور زمانہ جاتے ہوئے نظر بچا کے ترا نام لے گیا مجھ سے اسے زیادہ ضرورت تھی گھر بسانے کی وہ آ کے میرے در و بام لے گیا مجھ سے بھلا کہاں کوئی جز اس کے ملنے والا تھا بس ایک جرأت ناکام لے گیا مجھ سے بس ایک لمحے کے سچ جھوٹ کے عوض فرحتؔ تمام عمر کا الزام لے گیا مجھ سے
کہاں میں کہاں ہو تم
کہاں میں کہاں ہو تم جواب آیا جہاں ہو تم مرے جیون سے ظاہر ہو مرے غم میں نہاں ہو تم مری تو ساری دنیا ہو مرا سارا جہاں ہو تم مری سوچوں کے محور ہو مرا زور بیاں ہو تم میں تو لفظ محبت ہوں مگر میری زباں ہو تم
پھول کی سکھ کی صبا کی زندگی
پھول کی سکھ کی صبا کی زندگی مختصر ہے کیوں وفا کی زندگی کس نے دیکھا ہے خدا کی موت کو کس نے دیکھی ہے خدا کی زندگی ہاتھ پاؤں مارنا بے کار ہے جی رہے ہیں ہم خلا کی زندگی بارہا بھی موت سے ہے سامنا آزما لی بارہا کی زندگی درد سہنے کا الگ انداز ہے جی رہے ہیں ہم ادا کی زندگی چاہے جنگل ہوں یا صحرا یا نگر اصل میں تو ہے ہوا کی زندگی