سپیکرز
افتخار احمد کا پیش کردہ کلام
ہم تجھے شہر میں یوں ڈھونڈتے ہیں
ہم تجھے شہر میں یوں ڈھونڈتے ہیں جس طرح لوگ سکوں ڈھونڈتے ہیں ہم گو منصور نہیں ہیں لیکن اس کا انداز جنوں ڈھونڈتے ہیں جس سے ٹکراتی رہے پیشانی تیرے دکھ میں وہ ستوں ڈھونڈتے ہیں وہ تو کھویا ہے کہیں باطن میں ہم جسے اپنے بروں ڈھونڈتے ہیں ہم کہ ترسی ہوئی شریانیں ہیں اور اک قطرہ خوں ڈھونڈتے ہیں
بدل گئے مرے موسم، تو یار اب آئے
بدل گئے مرے موسم، تو یار اب آئے غموں نے چاٹ لیا، غمگسار اب آئے یہ وقت اس طرح رونے کا تو نہیں، لیکن میں کیا کروں، کہ مرے سوگوار، اب آئے وہ دھوپ دھوپ میں ہی ہو گیا بسر، چپ چاپ شجر شجر پہ مرے برگ و بار اب آئے وہ جن پہ دھوکہ سا جھیلا تھا، ہم نے منزل کا وہ قافلے تو سرِ راہ گزار، اب آئے نہ ڈالیوں پہ کوئی پھول ہے، نہ ہونٹوں پر مزہ تو جب ہے کہ بادِ بہار، اب آئے
بھول کر ذات تم کو یاد کیا
بھول کر ذات تم کو یاد کیا بات بے بات تم کو یاد کیا نیند ناراض ہو گئی ہم سے ہم نے جس رات تم کو یاد کیا چاند کے ساتھ تھیں ملاقاتیں ہر ملاقات تم کو یاد کیا رات کی بے کراں اداسی کا تھام کر ہاتھ تم کو یاد کیا اپنی آنکھوں کے خشک صحرا میں لے کے برسات تم کو یاد کیا