فرحت عباس شاہ

کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)

09 December 2025

21سپیکرز
291لسنرز

سپیکرز

افتخار احمد کا پیش کردہ کلام

ہم تجھے شہر میں یوں ڈھونڈتے ہیں

ہم تجھے شہر میں یوں ڈھونڈتے ہیں جس طرح لوگ سکوں ڈھونڈتے ہیں ہم گو منصور نہیں ہیں لیکن اس کا انداز جنوں ڈھونڈتے ہیں جس سے ٹکراتی رہے پیشانی تیرے دکھ میں وہ ستوں ڈھونڈتے ہیں وہ تو کھویا ہے کہیں باطن میں ہم جسے اپنے بروں ڈھونڈتے ہیں ہم کہ ترسی ہوئی شریانیں ہیں اور اک قطرہ خوں ڈھونڈتے ہیں

— فرحت عباس شاہ

بدل گئے مرے موسم، تو یار اب آئے

بدل گئے مرے موسم، تو یار اب آئے غموں نے چاٹ لیا، غمگسار اب آئے یہ وقت اس طرح رونے کا تو نہیں، لیکن میں کیا کروں، کہ مرے سوگوار، اب آئے وہ دھوپ دھوپ میں ہی ہو گیا بسر، چپ چاپ شجر شجر پہ مرے برگ و بار اب آئے وہ جن پہ دھوکہ سا جھیلا تھا، ہم نے منزل کا وہ قافلے تو سرِ راہ گزار، اب آئے نہ ڈالیوں پہ کوئی پھول ہے، نہ ہونٹوں پر مزہ تو جب ہے کہ بادِ بہار، اب آئے

— فرحت عباس شاہ

بھول کر ذات تم کو یاد کیا

بھول کر ذات تم کو یاد کیا بات بے بات تم کو یاد کیا نیند ناراض ہو گئی ہم سے ہم نے جس رات تم کو یاد کیا چاند کے ساتھ تھیں ملاقاتیں ہر ملاقات تم کو یاد کیا رات کی بے کراں اداسی کا تھام کر ہاتھ تم کو یاد کیا اپنی آنکھوں کے خشک صحرا میں لے کے برسات تم کو یاد کیا

— فرحت عباس شاہ