فرحت عباس شاہ

کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)

09 December 2025

21سپیکرز
291لسنرز

سپیکرز

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

گیت لکھے بھی تو ایسے کہ سنائے نہ گئے

گیت لکھے بھی تو ایسے کہ سنائے نہ گئے زخم لفظوں میں یوں اترے کہ دکھائے نہ گئے تیرے کچھ خواب جنازے ہیں میری آنکھوں میں وہ جنازے جو کبھی گھر سے اُٹھائے نہ گئے ہم نے قسمیں بھی اٹھا دیکھیں مگر بھول گئے ہم نے وعدے بھی کیے اور نبھائے نہ گئے شہر میں فتح کی رونق تھی کسی دشمن پر ہم سے لیکن در و دیوار سجائے نہ گئے کیا بس اتنی ہی محبت تھی کہ بولے نہ چلے کیا بس اتنا ہی تعلق تھا کہ آئے نہ گئے آج تک رکھے ہیں پچھتاوے کی الماری میں ایک دو وعدے، جو دونوں سے نبھائے نہ گئ

— فرحت عباس شاہ

گر دعا بھی کوئی چیز ہے تو دعا کے حوالے کیا

گر دعا بھی کوئی چیز ہے تو دعا کے حوالے کیا جا تجھے آج سے ہم نے اپنے خدا کے حوالے کیا ایک مدت ہوئی ہم نے دنیا کی ہر ایک ضد چھوڑ دی ایک مدت ہوئی ہم نے دل کو وفا کے حوالے کیا اس طرح ہم نے تیری محبت زمانے کے ہاتھوں میں دی جس طرح گل نے خوشبو کو باد صبا کے حوالے کیا بے بسی سی عجب زندگی میں اک ایسی بھی آئی کہ جب ہم نے چپ چاپ ہاتھوں کو رسم حنا کے حوالے کیا خون نے تیری یادیں سلگتی ہوئی رات کو سونپ دیں آنسوؤں نے ترا درد روکھی ہوا کے حوالے کیا

— فرحت عباس شاہ