سپیکرز
ایم سعید کا پیش کردہ کلام
گیت لکھے بھی تو ایسے کہ سنائے نہ گئے
گیت لکھے بھی تو ایسے کہ سنائے نہ گئے زخم لفظوں میں یوں اترے کہ دکھائے نہ گئے تیرے کچھ خواب جنازے ہیں میری آنکھوں میں وہ جنازے جو کبھی گھر سے اُٹھائے نہ گئے ہم نے قسمیں بھی اٹھا دیکھیں مگر بھول گئے ہم نے وعدے بھی کیے اور نبھائے نہ گئے شہر میں فتح کی رونق تھی کسی دشمن پر ہم سے لیکن در و دیوار سجائے نہ گئے کیا بس اتنی ہی محبت تھی کہ بولے نہ چلے کیا بس اتنا ہی تعلق تھا کہ آئے نہ گئے آج تک رکھے ہیں پچھتاوے کی الماری میں ایک دو وعدے، جو دونوں سے نبھائے نہ گئ
گر دعا بھی کوئی چیز ہے تو دعا کے حوالے کیا
گر دعا بھی کوئی چیز ہے تو دعا کے حوالے کیا جا تجھے آج سے ہم نے اپنے خدا کے حوالے کیا ایک مدت ہوئی ہم نے دنیا کی ہر ایک ضد چھوڑ دی ایک مدت ہوئی ہم نے دل کو وفا کے حوالے کیا اس طرح ہم نے تیری محبت زمانے کے ہاتھوں میں دی جس طرح گل نے خوشبو کو باد صبا کے حوالے کیا بے بسی سی عجب زندگی میں اک ایسی بھی آئی کہ جب ہم نے چپ چاپ ہاتھوں کو رسم حنا کے حوالے کیا خون نے تیری یادیں سلگتی ہوئی رات کو سونپ دیں آنسوؤں نے ترا درد روکھی ہوا کے حوالے کیا