فرحت عباس شاہ

کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)

09 December 2025

21سپیکرز
291لسنرز

سپیکرز

کریسنٹ کا پیش کردہ کلام

محبت ذات ہوتی ہے۔۔

محبت ذات ہوتی ہے۔۔!! محبت ذات کی تکمیل ہوتی ہے۔۔!! کوئی جنگل میں جا ٹھہرے، کسی بستی میں بس جائے، محبت ساتھ ہوتی ہے۔۔!! محبت خوشبوؤں کی لے، محبت موسموں کی دُھن۔۔ محبت آبشاروں کے، نکھرتے پانیوں کا من۔۔ محبت جنگلوں میں رقص کرتی، مورنی کا تن۔۔ محبت چلچلاتے ، گرم صحراؤں میں، ٹھنڈے چھاؤں کی مانند۔۔ محبت برف پڑتی سردیوں میں ، دھوپ بنتی ہے۔۔!! محبت دل۔۔۔۔۔۔محبت جان۔۔۔ محبت روح کا درمان۔۔ محبت مورتی ہے۔۔ اور کبھی، دل کے مندر میں کہیں پر ٹوٹ جائے تو۔۔ محبت کانچ کی گڑیا اور فضاؤں میں کسی کے ہاتھ سے گر چھوٹ جائے تو۔۔ محبت آبلا ہے کرب کا۔۔ اور پھوٹ جائے تو، محبت روگ ہوتی ہے۔۔ محبت سوگ ہوتی ہے۔۔ محبت شام ہوتی ہے۔۔ محبت رات ہوتی ہے۔۔ محبت جھلملاتی آنکھ میں برسات ہوتی ہے۔۔ محبت نیند کی رُت میں حسیں خواب کے رستے پر، سلگتے، جان کو آتے رتجگوں کی گھات ہوتی ہے۔۔ محبت جیت ہوتی ہے، محبت مات ہوتی ہے۔۔ محبت۔۔۔۔ذات ہوتی ہے۔۔!!!!!

— فرحت عباس شاہ

دلِ سوختہ

دلِ سوختہ کبھی بول بھی جو اسیر کہتے تھے خود کو تیری اداؤں کے وہ کہاں گئے جو سفیر تھے تیر ی چاہتوں کی فضاؤں کے وہ کہاں گئے وہ جو مُبتلائے سفر تھے تیرے خیال میں وہ جو دعویدار تھے عمر بھر کی وفاؤں کے وہ کہاں گئے کبھی کوئی راز تو کھول بھی کبھی بول بھی دلِ نا خدا کبھی بول بھی جو تیرے سفینۂ دار و غم کے سوار تھے جو تیرے وظیفۂ چشمِ نم پہ نثار تھے وہ جو ساحلوں پہ اُ تر گئے تو پھر اُس کے بعد پلٹ کے آئے کبھی نہیں تیری لہر لہر پہ جن کے نقش و نگار تھے کسی دن ترازوئے وقت پر اُنہیں تول بھی کبھی بول بھی وہ جو تیرے نغمۂ زیرو بم کے امین تھے جو تیرے طفیل بلندیوں کے مکین تھے و ہ جو معترف تھے تیری نگاہِ نیاز کے تمھیں جن پہ سو سو یقین تھے وہ چکا گئے تیرا مول بھی کبھی بول بھی کبھی بول بھی، دلِ سوختہ! دلِ نا خدا! دلِ بے نوا! کبھی بول بھی _

— فرحت عباس شاہ