اسعد بدایونی

کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی

22 April 2026

15سپیکرز
141لسنرز

سپیکرز

حماد ابراہیم کا پیش کردہ کلام

سورج کی طرح قریۂ مہتاب میں آیا

سورج کی طرح قریۂ مہتاب میں آیا رات ایک عجب شخص مرے خواب میں آیا کیا لہر تھی جو مجھ کو لگا آئی کنارے کس موج سے پھر حلقۂ گرداب میں آیا یہ شہر تو صحراؤں کی سرحد پہ بسا تھا کیسے یہ خرابہ کف سیلاب میں آیا اک یاد سے روشن ہوئے دیوار و در و بام خم ایک نئی طرح کا محراب میں آیا پہلے تو دھنک رنگ میں ڈوبا افق جاں پھر منظر ہجراں بھی تب و تاب میں آیا اک شخص کہ یکتا تھا دریدہ دہنی میں ذکر اس کا مگر پیار سے احباب میں آیا

— اسعد بدایونی