اسعد بدایونی

کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی

22 April 2026

15سپیکرز
141لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

نئی زمین نیا آسماں تلاش کرو

نئی زمین نیا آسماں تلاش کرو جو سطح آب پہ ہو وہ مکاں تلاش کرو نگر میں دھوپ کی تیزی جلائے دیتی ہے نگر سے دور کوئی سائباں تلاش کرو ٹھٹھر گیا ہے بدن سب کا برف باری سے دہکتا کھولتا آتش فشاں تلاش کرو ہر ایک لفظ کے معنی بہت ہی اتھلے ہیں اک ایسا لفظ جو ہو بے کراں تلاش کرو بہت دنوں سے کوئی حادثہ نہیں گزرا کسی کے تازہ لہو کا نشاں تلاش کرو ہر ایک کے راز سے واقف ہو کہہ رہے ہیں سبھی مرے بدن میں کوئی داستاں تلاش کرو

— اسعد بدایونی