اسعد بدایونی

کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی

22 April 2026

15سپیکرز
141لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

جلوہ ساماں رخ جاناں نہ ہوا تھا سو ہوا

جلوہ ساماں رخ جاناں نہ ہوا تھا سو ہوا ذرہ ذرہ مہ تاباں نہ ہوا تھا سو ہوا کچھ تو پہلے سے ہی افسردہ تھے اہل گلشن کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا میں نے دیکھا ہے تری کم نگہی کا انجام آشنائے‌ غم دوراں نہ ہوا تھا سو ہوا یہ عنایت یہ ترا جود و کرم ہے کہ مجھے شکوۂ تنگیٔ داماں نہ ہوا تھا سو ہوا اللہ اللہ مے و مینا کا اثر بھی کیا ہے کچھ علاج غم دوراں نہ ہوا تھا سو ہوا یہ ترے شعر ترا حسن تغزل اسعدؔ ترے شعروں سے جو شاداں نہ ہوا تھا سو ہوا

— اسعد بدایونی

ہم اہل خوف

یہی تھکن کہ جو ان بستیوں پہ چھائی ہے اتر نہ جائے پرندوں کے شہپروں میں بھی یہ ٹوٹے پھوٹے مکانات اونگھتے چھپر چراغ شام کی دھندلی سی روشنی کے امیں نہ ان کا یار کوئی ہے نہ کوئی نکتہ چیں نہ جانے کب کوئی دست ستم ادھر آ جائے اور اس ذرا سی بچی روشنی کو کھا جائے یہ کھلکھلاتے ہوئے ہنستے مسکراتے لوگ بسوں میں ریلوں میں منزل کی سمت جاتے لوگ کوئی دھماکہ انہیں جانے کب اڑا جائے لہو کے دھبوں پہ افسوس کرتا حاکم شہر اور اس کے بعد محبت پہ چند تقریریں جو اہل شہر کی پیشانیوں پہ روشن ہیں ملال یہ ہے کہ اس کو کوئی نہ دیکھے گا ہم اہل خوف کے سینوں میں جو دھڑکتا ہے

— اسعد بدایونی