سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
جلوہ ساماں رخ جاناں نہ ہوا تھا سو ہوا
جلوہ ساماں رخ جاناں نہ ہوا تھا سو ہوا ذرہ ذرہ مہ تاباں نہ ہوا تھا سو ہوا کچھ تو پہلے سے ہی افسردہ تھے اہل گلشن کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا میں نے دیکھا ہے تری کم نگہی کا انجام آشنائے غم دوراں نہ ہوا تھا سو ہوا یہ عنایت یہ ترا جود و کرم ہے کہ مجھے شکوۂ تنگیٔ داماں نہ ہوا تھا سو ہوا اللہ اللہ مے و مینا کا اثر بھی کیا ہے کچھ علاج غم دوراں نہ ہوا تھا سو ہوا یہ ترے شعر ترا حسن تغزل اسعدؔ ترے شعروں سے جو شاداں نہ ہوا تھا سو ہوا
ہم اہل خوف
یہی تھکن کہ جو ان بستیوں پہ چھائی ہے اتر نہ جائے پرندوں کے شہپروں میں بھی یہ ٹوٹے پھوٹے مکانات اونگھتے چھپر چراغ شام کی دھندلی سی روشنی کے امیں نہ ان کا یار کوئی ہے نہ کوئی نکتہ چیں نہ جانے کب کوئی دست ستم ادھر آ جائے اور اس ذرا سی بچی روشنی کو کھا جائے یہ کھلکھلاتے ہوئے ہنستے مسکراتے لوگ بسوں میں ریلوں میں منزل کی سمت جاتے لوگ کوئی دھماکہ انہیں جانے کب اڑا جائے لہو کے دھبوں پہ افسوس کرتا حاکم شہر اور اس کے بعد محبت پہ چند تقریریں جو اہل شہر کی پیشانیوں پہ روشن ہیں ملال یہ ہے کہ اس کو کوئی نہ دیکھے گا ہم اہل خوف کے سینوں میں جو دھڑکتا ہے