سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آزاد
امل خان
ایم سعید
پرشانت
تجمل عربی
جاسمین
حماد ابراہیم
راجا اکرام قمر
ساگر
سحر
سید جینٹلمین
شہزاد
فاران وڑائچ
گلشن شیرازی
ملک
پرشانت کا پیش کردہ کلام
جسے نہ میری اداسی کا کچھ خیال آیا
جسے نہ میری اداسی کا کچھ خیال آیا میں اس کے حسن پہ اک روز خاک ڈال آیا یہ عشق خوب رہا باوجود ملنے کے نہ درمیان کبھی لمحۂ وصال آیا اشارہ کرنے لگے ہیں بھنور کے ہاتھ ہمیں خوشا کہ پھر دل دریا میں اشتعال آیا مروتوں کے ثمر داغ دار ہونے لگے محبتوں کے شجر تجھ پہ کیا زوال آیا حسین شکل کو دیکھا خدا کو یاد کیا کسی گناہ کا دل میں کہاں خیال آیا خدا بچائے تصوف گزیدہ لوگوں سے کوئی جو شعر بھلا سن لیا تو حال آیا