اسعد بدایونی

کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی

22 April 2026

15سپیکرز
141لسنرز

سپیکرز

پرشانت کا پیش کردہ کلام

جسے نہ میری اداسی کا کچھ خیال آیا

جسے نہ میری اداسی کا کچھ خیال آیا میں اس کے حسن پہ اک روز خاک ڈال آیا یہ عشق خوب رہا باوجود ملنے کے نہ درمیان کبھی لمحۂ وصال آیا اشارہ کرنے لگے ہیں بھنور کے ہاتھ ہمیں خوشا کہ پھر دل دریا میں اشتعال آیا مروتوں کے ثمر داغ دار ہونے لگے محبتوں کے شجر تجھ پہ کیا زوال آیا حسین شکل کو دیکھا خدا کو یاد کیا کسی گناہ کا دل میں کہاں خیال آیا خدا بچائے تصوف گزیدہ لوگوں سے کوئی جو شعر بھلا سن لیا تو حال آیا

— اسعد بدایونی