اسعد بدایونی

کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی

22 April 2026

15سپیکرز
141لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

راستہ کوئی سفر کوئی مسافت کوئی

راستہ کوئی سفر کوئی مسافت کوئی پھر خرابی کی عطا ہو مجھے صورت کوئی سارے دریا ہیں یہاں موج میں اپنی اپنی مرے صحرا کو نہیں ان سے شکایت کوئی جم گئی دھول ملاقات کے آئینوں پر مجھ کو اس کی نہ اسے میری ضرورت کوئی میں نے دنیا کو سدا دل کے برابر سمجھا کام آئی نہ بزرگوں کی نصیحت کوئی سرمئی شام کے ہم راہ پرندوں کی قطار دیکھنے والوں کی آنکھوں کو بشارت کوئی بجھتی آنکھوں کو کسی نور کے دریا کی تلاش ٹوٹتی سانس کو زنجیر ضرورت کوئی تو نے ہر نخل میں کچھ ذوق نمو رکھا ہے اے خدا میرے پنپنے کی علامت کوئی

— اسعد بدایونی