اسعد بدایونی

کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی

22 April 2026

15سپیکرز
141لسنرز

سپیکرز

افتخار احمد کا پیش کردہ کلام

بڑے نادان تھے ہم ریت کو آب رواں سمجھے

بڑے نادان تھے ہم ریت کو آب رواں سمجھے کھجوروں کے درختوں کو گھنیرا سائباں سمجھے چمن میں میرے آنسو تھے جنہیں شبنم کہا سب نے فلک پر میری آہیں تھیں جنہیں سب کہکشاں سمجھے کبھی تجھ کو غبار رنگ میں کوئی کرن جانا کبھی تجھ کو گرفت سنگ میں جوئے رواں سمجھے کسی بے مہر صبحوں کو عطا کی روشنی ہم نے کئی نا مہرباں راتوں کو بھی ہم مہرباں سمجھے خزاں کے شہر میں بس میں بہاروں کی علامت تھا مرے زخموں کو سب پھولوں کی نازک پتیاں سمجھے سبھی کو دے رہا تھا وہ دعا جینے کی صدیوں تک ہمارے شہر کے سب لوگ اس کو بد زباں سمجھے تھکے بیٹھے تھے کچھ پنچھی لب دریا جنہیں اسعدؔ ہم اپنی پر شکستہ خواہشوں کا کارواں سمجھے

— اسعد بدایونی

ہم اپنے ہجر میں اپنے وصال میں گم ہیں

ہم اپنے ہجر میں اپنے وصال میں گم ہیں وہ سوچتا ہے کہ اس کے خیال میں گم ہیں ہر ایک لمحۂ لذت حساب مانگتا ہے سو ہم بھی سب کی طرح اک سوال میں گم ہیں شفق کی آنکھ کسے رو رہی ہے مدت سے دیار و دشت سبھی کس ملال میں گم ہیں رتوں کے دائرے کیوں آج تک سلامت ہیں تمام سلسلے کیوں ماہ و سال میں گم ہیں یہ چاند جھیل کے پانی سے ہم کلام ہے کیوں کنارے کس لیے رنج و ملال میں گم ہیں

— اسعد بدایونی