اسعد بدایونی

کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی

22 April 2026

15سپیکرز
141لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

پوشیدہ کیوں ہے طور پہ جلوہ دکھا کے دیکھ

پوشیدہ کیوں ہے طور پہ جلوہ دکھا کے دیکھ اے دوست میری تاب نظر آزما کے دیکھ پھولوں کی تازگی ہی نہیں دیکھنے کی چیز کانٹوں کی سمت بھی تو نگاہیں اٹھا کے دیکھ لیتا نہیں کسی کا پس مرگ کوئی نام دنیا کو دیکھنا ہے تو دنیا سے جا کے دیکھ دل میں ہمارے درد زمانے کا ہے نہاں پیوست دل میں سیکڑوں پیکاں جفا کے دیکھ جو بادہ خوار غم ہیں انہیں بھی کبھی کبھی ساقی شراب حسن کے ساغر پلا کے دیکھ بن جائے گا کبھی نہ کبھی درد ہی دوا اسعدؔ کے دل میں درد کی شدت بڑھا کے دیکھ

— اسعد بدایونی