اسعد بدایونی

کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی

22 April 2026

15سپیکرز
141لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

دل وحشی تجھے اک بار پھر زنجیر کرنا ہے

دل وحشی تجھے اک بار پھر زنجیر کرنا ہے کہ اب اس سے ملاقاتوں میں کچھ تاخیر کرنا ہے مرے پچھلے بہانے اس پہ روشن ہوتے جاتے ہیں سو اب مجھ کو نیا حیلہ نئی تدبیر کرنا ہے کماں داروں کو اس سے کیا غرض پہنچے کہ رہ جائے انہیں تو بس اشارے پر روانہ تیر کرنا ہے ابھی امکان کے صفحے بہت خالی ہیں دنیا میں مجھے بھی ایک نوحہ جا بہ جا تحریر کرنا ہے

— اسعد بدایونی