اسعد بدایونی

کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی

22 April 2026

15سپیکرز
141لسنرز

سپیکرز

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

سخن وری کا بہانہ بناتا رہتا ہوں

سخن وری کا بہانہ بناتا رہتا ہوں ترا فسانہ تجھی کو سناتا رہتا ہوں میں اپنے آپ سے شرمندہ ہوں نہ دنیا سے جو دل میں آتا ہے ہونٹوں پہ لاتا رہتا ہوں پرانے گھر کی شکستہ چھتوں سے اکتا کر نئے مکان کا نقشہ بناتا رہتا ہوں مرے وجود میں آباد ہیں کئی جنگل جہاں میں ہو کی صدائیں لگاتا رہتا ہوں مرے خدا یہی مصروفیت بہت ہے مجھے ترے چراغ جلاتا بجھاتا رہتا ہوں

— اسعد بدایونی