مجروح سلطانپوری

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری

31 January 2026

16سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

اہل طوفاں آؤ دل والوں کا افسانہ کہیں

اہل طوفاں آؤ دل والوں کا افسانہ کہیں موج کو گیسو بھنور کو چشم جانانہ کہیں دار پر چڑھ کر لگائیں نعرۂ زلف صنم سب ہمیں باہوش سمجھیں چاہے دیوانہ کہیں یار نکتہ داں کدھر ہے پھر چلیں اس کے حضور زندگی کو دل کہیں اور دل کو نذرانہ کہیں تھامیں اس بت کی کلائی اور کہیں اس کو جنوں چوم لیں منہ اور اسے انداز رندانہ کہیں سرخی مے کم تھی میں نے چھو لیے ساقی کے ہونٹ سر جھکا ہے جو بھی اب ارباب مے خانہ کہیں تشنگی ہی تشنگی ہے کس کو کہیے مے کدہ لب ہی لب ہم نے تو دیکھے کس کو پیمانہ کہیں پارۂ دل ہے وطن کی سرزمیں مشکل یہ ہے شہر کو ویران یا اس دل کو ویرانہ کہیں اے رخ زیبا بتا دے اور ابھی ہم کب تلک تیرگی کو شمع تنہائی کو پروانہ کہیں آرزو ہی رہ گئی مجروحؔ کہتے ہم کبھی اک غزل ایسی جسے تصویر جانانہ کہیں

— مجروح سلطانپوری

ختم شور طوفاں تھا دور تھی سیاہی بھی

ختم شور طوفاں تھا دور تھی سیاہی بھی دم کے دم میں افسانہ تھی مری تباہی بھی التفات سمجھوں یا بے رخی کہوں اس کو رہ گئی خلش بن کر اس کی کم نگاہی بھی اس نظر کے اٹھنے میں اس نظر کے جھکنے میں نغمۂ سحر بھی ہے آہ صبح گاہی بھی یاد کر وہ دن جس دن تیری سخت گیری پر اشک بھر کے اٹھی تھی میری بے گناہی بھی پستیٔ زمیں سے ہے رفعت فلک قائم میری خستہ حالی سے تیری کج کلاہی بھی شمع بھی اجالا بھی میں ہی اپنی محفل کا میں ہی اپنی منزل کا راہ بر بھی راہی بھی گنبدوں سے پلٹی ہے اپنی ہی صدا مجروحؔ مسجدوں میں کی میں نے جا کے داد خواہی بھی

— مجروح سلطانپوری