سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
اہل طوفاں آؤ دل والوں کا افسانہ کہیں
اہل طوفاں آؤ دل والوں کا افسانہ کہیں موج کو گیسو بھنور کو چشم جانانہ کہیں دار پر چڑھ کر لگائیں نعرۂ زلف صنم سب ہمیں باہوش سمجھیں چاہے دیوانہ کہیں یار نکتہ داں کدھر ہے پھر چلیں اس کے حضور زندگی کو دل کہیں اور دل کو نذرانہ کہیں تھامیں اس بت کی کلائی اور کہیں اس کو جنوں چوم لیں منہ اور اسے انداز رندانہ کہیں سرخی مے کم تھی میں نے چھو لیے ساقی کے ہونٹ سر جھکا ہے جو بھی اب ارباب مے خانہ کہیں تشنگی ہی تشنگی ہے کس کو کہیے مے کدہ لب ہی لب ہم نے تو دیکھے کس کو پیمانہ کہیں پارۂ دل ہے وطن کی سرزمیں مشکل یہ ہے شہر کو ویران یا اس دل کو ویرانہ کہیں اے رخ زیبا بتا دے اور ابھی ہم کب تلک تیرگی کو شمع تنہائی کو پروانہ کہیں آرزو ہی رہ گئی مجروحؔ کہتے ہم کبھی اک غزل ایسی جسے تصویر جانانہ کہیں
ختم شور طوفاں تھا دور تھی سیاہی بھی
ختم شور طوفاں تھا دور تھی سیاہی بھی دم کے دم میں افسانہ تھی مری تباہی بھی التفات سمجھوں یا بے رخی کہوں اس کو رہ گئی خلش بن کر اس کی کم نگاہی بھی اس نظر کے اٹھنے میں اس نظر کے جھکنے میں نغمۂ سحر بھی ہے آہ صبح گاہی بھی یاد کر وہ دن جس دن تیری سخت گیری پر اشک بھر کے اٹھی تھی میری بے گناہی بھی پستیٔ زمیں سے ہے رفعت فلک قائم میری خستہ حالی سے تیری کج کلاہی بھی شمع بھی اجالا بھی میں ہی اپنی محفل کا میں ہی اپنی منزل کا راہ بر بھی راہی بھی گنبدوں سے پلٹی ہے اپنی ہی صدا مجروحؔ مسجدوں میں کی میں نے جا کے داد خواہی بھی