مجروح سلطانپوری

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری

31 January 2026

16سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

جلتے ہیں جس کے لئے تیری آنکھوں کے دیے

جلتے ہیں جس کے لئے تیری آنکھوں کے دیے ڈھونڈ لایا ہوں وہی گیت میں تیرے لئے درد بن کے جو میرے دل میں رہا ، ڈھل نہ سکا جادو بن کے تیری آنکھوں میں رکا ، چل نہ سکا آج لایا ہوں وہی گیت میں تیرے لئے دل میں رکھ لینا اسے ہاتھوں سے یہ چھوٹے نہ کہیں گیت نازک ہے میرا شیشے سے بھی ٹوٹے نہ کہیں گنگناؤں گا یہی گیت میں تیرے لئے جب تلک نہ یہ تیرے رس کے بھرے ہونٹوں سے ملے یونہی آوارہ پھرے گا یہ تیری زلفوں کے تلے گائے جاؤںگا یہی گیت میں تیرے لئے جلتے ہیں جس کے لئے تیری آنکھوں کے دیے

— مجروح سلطانپوری