مجروح سلطانپوری

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری

31 January 2026

16سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

زاہدحسین کا پیش کردہ کلام

تقدیر کا شکوہ بے معنی جینا ہی تجھے منظور نہیں

تقدیر کا شکوہ بے معنی جینا ہی تجھے منظور نہیں آپ اپنا مقدر بن نہ سکے اتنا تو کوئی مجبور نہیں یہ محفل اہل دل ہے یہاں ہم سب مے کش ہم سب ساقی تفریق کریں انسانوں میں اس بزم کا یہ دستور نہیں جنت بہ نگہ تسنیم بہ لب انداز اس کے اے شیخ نہ پوچھ میں جس سے محبت کرتا ہوں انساں ہے خیالی حور نہیں وہ کون سی صبحیں ہیں جن میں بیدار نہیں افسوں تیرا وہ کون سی کالی راتیں ہیں جو میرے نشے میں چور نہیں سنتے ہیں کہ کانٹے سے گل تک ہیں راہ میں لاکھوں ویرانے کہتا ہے مگر یہ عزم جنوں صحرا سے گلستاں دور نہیں مجروحؔ اٹھی ہے موج صبا آثار لیے طوفانوں کے ہر قطرۂ شبنم بن جائے اک جوئے رواں کچھ دور نہیں

— مجروح سلطانپوری