مجروح سلطانپوری

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری

31 January 2026

16سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

گو رات مری صبح کی محرم تو نہیں ہے

گو رات مری صبح کی محرم تو نہیں ہے سورج سے ترا رنگ حنا کم تو نہیں ہے کچھ زخم ہی کھائیں چلو کچھ گل ہی کھلائیں ہرچند بہاراں کا یہ موسم تو نہیں ہے چاہے وہ کسی کا ہو لہو دامن گل پر صیاد یہ کل رات کی شبنم تو نہیں ہے اتنی بھی ہمیں بندش غم کب تھی گوارا پردے میں تری کاکل پرخم تو نہیں ہے اب کارگہ دہر میں لگتا ہے بہت دل اے دوست کہیں یہ بھی ترا غم تو نہیں ہے صحرا میں بگولا بھی ہے مجروحؔ صبا بھی ہم سا کوئی آوارۂ عالم تو نہیں ہے

— مجروح سلطانپوری