مجروح سلطانپوری

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری

31 January 2026

16سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

شہزاد کا پیش کردہ کلام

خنجر کی طرح بوئے سمن تیز بہت ہے

خنجر کی طرح بوئے سمن تیز بہت ہے موسم کی ہوا اب کے جنوں خیز بہت ہے راس آئے تو ہے چھاؤں بہت برگ و شجر کی ہاتھ آئے تو ہر شاخ ثمر ریز بہت ہے لوگو مری گل کاری وحشت کا صلہ کیا دیوانے کو اک حرف دل آویز بہت ہے منعم کی طرح پیر حرم پیتے ہیں وہ جام رندوں کو بھی جس جام سے پرہیز بہت ہے مصلوب ہوا کوئی سر راہ تمنا آواز جرس پچھلے پہر تیز بہت ہے مجروحؔ سنے کون تری تلخ نوائی گفتار عزیزاں شکرآمیز بہت ہے

— مجروح سلطانپوری

آہ جاں سوز کی محرومی تاثیر نہ دیکھ

آہ جاں سوز کی محرومی تاثیر نہ دیکھ ہو ہی جائے گی کوئی جینے کی تدبیر نہ دیکھ حادثے اور بھی گزرے تری الفت کے سوا ہاں مجھے دیکھ مجھے اب میری تصویر نہ دیکھ یہ ذرا دور پہ منزل یہ اجالا یہ سکوں خواب کو دیکھ ابھی خواب کی تعبیر نہ دیکھ دیکھ زنداں سے پرے رنگ چمن جوش بہار رقص کرنا ہے تو پھر پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ کچھ بھی ہوں پھر بھی دکھے دل کی صدا ہوں ناداں میری باتوں کو سمجھ تلخئ تقریر نہ دیکھ وہی مجروحؔ وہی شاعر آوارہ مزاج کوئی اٹھا ہے تری بزم سے دلگیر نہ دیکھ

— مجروح سلطانپوری