سپیکرز
شہزاد کا پیش کردہ کلام
خنجر کی طرح بوئے سمن تیز بہت ہے
خنجر کی طرح بوئے سمن تیز بہت ہے موسم کی ہوا اب کے جنوں خیز بہت ہے راس آئے تو ہے چھاؤں بہت برگ و شجر کی ہاتھ آئے تو ہر شاخ ثمر ریز بہت ہے لوگو مری گل کاری وحشت کا صلہ کیا دیوانے کو اک حرف دل آویز بہت ہے منعم کی طرح پیر حرم پیتے ہیں وہ جام رندوں کو بھی جس جام سے پرہیز بہت ہے مصلوب ہوا کوئی سر راہ تمنا آواز جرس پچھلے پہر تیز بہت ہے مجروحؔ سنے کون تری تلخ نوائی گفتار عزیزاں شکرآمیز بہت ہے
آہ جاں سوز کی محرومی تاثیر نہ دیکھ
آہ جاں سوز کی محرومی تاثیر نہ دیکھ ہو ہی جائے گی کوئی جینے کی تدبیر نہ دیکھ حادثے اور بھی گزرے تری الفت کے سوا ہاں مجھے دیکھ مجھے اب میری تصویر نہ دیکھ یہ ذرا دور پہ منزل یہ اجالا یہ سکوں خواب کو دیکھ ابھی خواب کی تعبیر نہ دیکھ دیکھ زنداں سے پرے رنگ چمن جوش بہار رقص کرنا ہے تو پھر پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ کچھ بھی ہوں پھر بھی دکھے دل کی صدا ہوں ناداں میری باتوں کو سمجھ تلخئ تقریر نہ دیکھ وہی مجروحؔ وہی شاعر آوارہ مزاج کوئی اٹھا ہے تری بزم سے دلگیر نہ دیکھ