سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کو
ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کو یہی تو ہیں جو ڈبویا کئے سفینوں کو شراب ہو ہی گئی ہے بقدر پیمانہ بہ عزم ترک نچوڑا جب آستینوں کو جمال صبح دیا روئے نو بہار دیا مری نگاہ بھی دیتا خدا حسینوں کو ہماری راہ میں آئے ہزار مے خانے بھلا سکے نہ مگر ہوش کے قرینوں کو کبھی نظر بھی اٹھائی نہ سوئے بادۂ ناب کبھی چڑھا گئے پگھلا کے آبگینوں کو یہی جہاں ہے جہنم یہی جہاں فردوس بتاؤ عالم بالا کے سیربینوں کو ہوئے ہیں قافلے ظلمت کی وادیوں میں رواں چراغ راہ کئے خوں چکاں جبینوں کو تجھے نہ مانے کوئی تجھ کو اس سے کیا مجروحؔ چل اپنی راہ بھٹکنے دے نکتہ چینوں کو
ادائے طول سخن کیا وہ اختیار کرے
ادائے طول سخن کیا وہ اختیار کرے جو عرض حال بہ طرز نگاہ یار کرے بہت ہی تلخ نوا ہوں مگر عزیز وطن میں کیا کروں جو ترا درد بے قرار کرے قدم کو فیض جنوں سے وہ حوصلہ ہے نصیب جو خار راہ کو بھی شمع رہ گزار کرے جگائیں ہم سفروں کو اٹھائیں پرچم شوق نہ جانے کب ہو سحر کون انتظار کرے مثال ملتی ہے کتنوں کی اس دوانے سے چمن سے دور جو بیٹھا غم بہار کرے دیار جور میں رستہ ہے اک یہی ورنہ کسے پسند ہے اے دل کہ سیر دار کرے خدا کرے غم گیتی کا پیچ و تاب اے دوست کچھ اور بھی تری زلفوں کو تابدار کرے ستم کہ تیغ قلم دیں اسے جو اے مجروحؔ غزل کو قتل کرے نغمے کو شکار کرے