مجروح سلطانپوری

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری

31 January 2026

16سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

ہم کو جنوں کیا سکھلاتے ہو ہم تھے پریشاں تم سے زیادہ

ہم کو جنوں کیا سکھلاتے ہو ہم تھے پریشاں تم سے زیادہ چاک کئے ہیں ہم نے عزیزو چار گریباں تم سے زیادہ چاک جگر محتاج رفو ہے آج تو دامن صرف لہو ہے اک موسم تھا ہم کو رہا ہے شوق بہاراں تم سے زیادہ عہد وفا یاروں سے نبھائیں ناز حریفاں ہنس کے اٹھائیں جب ہمیں ارماں تم سے سوا تھا اب ہیں پشیماں تم سے زیادہ ہم بھی ہمیشہ قتل ہوئے اور تم نے بھی دیکھا دور سے لیکن یہ نہ سمجھنا ہم کو ہوا ہے جان کا نقصاں تم سے زیادہ جاؤ تم اپنے بام کی خاطر ساری لویں شمعوں کی کتر لو زخم کے مہر و ماہ سلامت جشن چراغاں تم سے زیادہ دیکھ کے الجھن زلف دوتا کی کیسے الجھ پڑتے ہیں ہوا سے ہم سے سیکھو ہم کو ہے یارو فکر نگاراں تم سے زیادہ زنجیر و دیوار ہی دیکھی تم نے تو مجروحؔ مگر ہم کوچہ کوچہ دیکھ رہے ہیں عالم زنداں تم سے زیادہ

— مجروح سلطانپوری

ہم ہیں متاع کوچہ و بازار کی طرح

ہم ہیں متاع کوچہ و بازار کی طرح اٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح اس کوئے تشنگی میں بہت ہے کہ ایک جام ہاتھ آ گیا ہے دولت بیدار کی طرح وہ تو کہیں ہے اور مگر دل کے آس پاس پھرتی ہے کوئی شے نگہ یار کی طرح سیدھی ہے راہ شوق پہ یوں ہی کہیں کہیں خم ہو گئی ہے گیسوئے دلدار کی طرح بے تیشہ نظر نہ چلو راہ رفتگاں ہر نقش پا بلند ہے دیوار کی طرح اب جا کے کچھ کھلا ہنر ناخن جنوں زخم جگر ہوئے لب و رخسار کی طرح مجروحؔ لکھ رہے ہیں وہ اہل وفا کا نام ہم بھی کھڑے ہوئے ہیں گنہ گار کی طرح

— مجروح سلطانپوری