مجروح سلطانپوری

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری

31 January 2026

16سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

نایاب کا پیش کردہ کلام

چھلکائیے جام

چھلکائیے جام آئیے آپ کی آنکھوں کے نام، ہونٹوں کے نام پھول جیسے تن پہ جلوے یہ رنگ و بو کے آج جامِ مئے اٹھے ان ہونٹوں کو چھو کے لچکائیے شاخِ بدن، مہکائیے زلفوں کی شام آپ ہی کا نام لے کر پی ہے سبھی نے آپ پر دھڑک رہے ہیں پیالوں کے سینے یہاں اجنبی کوئی نہیں، یہ ہے آپ کی محفل تمام کون ہر کسی کی بانہیں بانہوں میں ڈال لے جو نظر نشہ پلائے، وہ ہی سنبھال لے دنیا کو ہو اوروں کی دھن، ہم کو تو ہے ساقی سے کام

— مجروح سلطانپوری

تو نے او رنگیلے کیسا جادو کیا

تو نے او رنگیلے کیسا جادو کیا پیا پیا بولے متوالا جیا بانہوں میں چھپا کے یہ کیا کیا او رے پیا پاس بلا کے گلے سے لگا کے تو نے تو بدل ڈالی دنیا نئے ہیں نظارے نئے ہیں اشارے رہی نہ وہ کل والی دنیا سپنے دکھا کے یہ کیا کیا او رے پیا تو نے او رنگیلے کیسا جادو کیا پیا پیا بولے متوالا جیا او میرے ساجن کیسی یہ دھڑکن شور مچانے لگی من میں جیسے لہرائے ندیا کا پانی لہر اٹھے رے میرے تن میں مجھ میں سما کے یہ کیا کیا او رے پیا تو نے او رنگیلے کیسا جادو کیا پیا پیا بولے متوالا جیا

— مجروح سلطانپوری