سپیکرز
نایاب کا پیش کردہ کلام
چھلکائیے جام
چھلکائیے جام آئیے آپ کی آنکھوں کے نام، ہونٹوں کے نام پھول جیسے تن پہ جلوے یہ رنگ و بو کے آج جامِ مئے اٹھے ان ہونٹوں کو چھو کے لچکائیے شاخِ بدن، مہکائیے زلفوں کی شام آپ ہی کا نام لے کر پی ہے سبھی نے آپ پر دھڑک رہے ہیں پیالوں کے سینے یہاں اجنبی کوئی نہیں، یہ ہے آپ کی محفل تمام کون ہر کسی کی بانہیں بانہوں میں ڈال لے جو نظر نشہ پلائے، وہ ہی سنبھال لے دنیا کو ہو اوروں کی دھن، ہم کو تو ہے ساقی سے کام
تو نے او رنگیلے کیسا جادو کیا
تو نے او رنگیلے کیسا جادو کیا پیا پیا بولے متوالا جیا بانہوں میں چھپا کے یہ کیا کیا او رے پیا پاس بلا کے گلے سے لگا کے تو نے تو بدل ڈالی دنیا نئے ہیں نظارے نئے ہیں اشارے رہی نہ وہ کل والی دنیا سپنے دکھا کے یہ کیا کیا او رے پیا تو نے او رنگیلے کیسا جادو کیا پیا پیا بولے متوالا جیا او میرے ساجن کیسی یہ دھڑکن شور مچانے لگی من میں جیسے لہرائے ندیا کا پانی لہر اٹھے رے میرے تن میں مجھ میں سما کے یہ کیا کیا او رے پیا تو نے او رنگیلے کیسا جادو کیا پیا پیا بولے متوالا جیا