مجروح سلطانپوری

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری

31 January 2026

16سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

امل خان کا پیش کردہ کلام

دور دور مجھ سے وہ اس طرح خراماں ہے

دور دور مجھ سے وہ اس طرح خراماں ہے ہر قدم ہے نقش دل ہر نگہ رگ جاں ہے بن گئی ہے مستی میں دل کی بات ہنگامہ قطرہ تھی جو ساغر میں لب تک آ کے طوفاں ہے ہم تو پائے جاں پر کر بھی آئے اک سجدہ سوچتی رہی دنیا کفر ہے کہ ایماں ہے میرے شکوۂ غم سے عالم ندامت میں اس لب تبسم پر شمع سی فروزاں ہے یہ نیاز غم خواری یہ شکست دل داری بس نوازش جاناں دل بہت پریشاں ہے منتظر ہیں پھر میرے حادثے زمانے کے پھر مرا جنوں تیری بزم میں غزل خواں ہے فکر کیا انہیں جب تو ساتھ ہے اسیروں کے اے غم اسیری تو خود شکست زنداں ہے اپنی اپنی ہمت ہے اپنا اپنا دل مجروحؔ زندگی بھی ارزاں ہے موت بھی فراواں ہے

— مجروح سلطانپوری

یہ رکے رکے سے آنسو یہ دبی دبی سی آہیں

یہ رکے رکے سے آنسو یہ دبی دبی سی آہیں یوں ہی کب تلک خدایا غم زندگی نباہیں کہیں ظلمتوں میں گھر کر ہے تلاش دشت رہبر کہیں جگمگا اٹھی ہیں مرے نقش پا سے راہیں ترے خانماں خرابوں کا چمن کوئی نہ صحرا یہ جہاں بھی بیٹھ جائیں وہیں ان کی بارگاہیں کبھی جادۂ طلب سے جو پھرا ہوں دل شکستہ تری آرزو نے ہنس کر وہیں ڈال دی ہیں بانہیں مرے عہد میں نہیں ہے یہ نشان سربلندی یہ رنگے ہوئے عمامے یہ جھکی جھکی کلاہیں

— مجروح سلطانپوری