سپیکرز
امل خان کا پیش کردہ کلام
دور دور مجھ سے وہ اس طرح خراماں ہے
دور دور مجھ سے وہ اس طرح خراماں ہے ہر قدم ہے نقش دل ہر نگہ رگ جاں ہے بن گئی ہے مستی میں دل کی بات ہنگامہ قطرہ تھی جو ساغر میں لب تک آ کے طوفاں ہے ہم تو پائے جاں پر کر بھی آئے اک سجدہ سوچتی رہی دنیا کفر ہے کہ ایماں ہے میرے شکوۂ غم سے عالم ندامت میں اس لب تبسم پر شمع سی فروزاں ہے یہ نیاز غم خواری یہ شکست دل داری بس نوازش جاناں دل بہت پریشاں ہے منتظر ہیں پھر میرے حادثے زمانے کے پھر مرا جنوں تیری بزم میں غزل خواں ہے فکر کیا انہیں جب تو ساتھ ہے اسیروں کے اے غم اسیری تو خود شکست زنداں ہے اپنی اپنی ہمت ہے اپنا اپنا دل مجروحؔ زندگی بھی ارزاں ہے موت بھی فراواں ہے
یہ رکے رکے سے آنسو یہ دبی دبی سی آہیں
یہ رکے رکے سے آنسو یہ دبی دبی سی آہیں یوں ہی کب تلک خدایا غم زندگی نباہیں کہیں ظلمتوں میں گھر کر ہے تلاش دشت رہبر کہیں جگمگا اٹھی ہیں مرے نقش پا سے راہیں ترے خانماں خرابوں کا چمن کوئی نہ صحرا یہ جہاں بھی بیٹھ جائیں وہیں ان کی بارگاہیں کبھی جادۂ طلب سے جو پھرا ہوں دل شکستہ تری آرزو نے ہنس کر وہیں ڈال دی ہیں بانہیں مرے عہد میں نہیں ہے یہ نشان سربلندی یہ رنگے ہوئے عمامے یہ جھکی جھکی کلاہیں