علامہ اقبال

مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں (علامہ اقبال)

03 December 2025

25سپیکرز
285لسنرز

سپیکرز

انتظار حسین کا پیش کردہ کلام

اے روح محمد

شيرازہ ہوا ملت مرحوم کا ابتر اب تو ہي بتا، تيرا مسلمان کدھر جائے! وہ لذت آشوب نہيں بحر عرب ميں پوشيدہ جو ہے مجھ ميں، وہ طوفان کدھر جائے ہر چند ہے بے قافلہ و راحلہ و زاد اس کوہ و بياباں سے حدي خوان کدھر جائے اس راز کو اب فاش کر اے روح محمد آيات الہي کا نگہبان کدھر جائے!

— علامہ اقبال

تیرے جیسا کوئی ملا ہی نہیں

تیرے جیسا کوئی ملا ہی نہیں کیسے ملتا کہیں پہ تھا ہی نہیں گھر کے ملبے سے گھر بنا ہی نہیں زلزلے کا اثر گیا ہی نہیں مجھ پہ ہو کر گزر گئی دنیا میں تری راہ سے ہٹا ہی نہیں کل سے مصروف خیریت میں ہوں شعر تازہ کوئی ہوا ہی نہیں رات بھی ہم نے ہی صدارت کی بزم میں اور کوئی تھا ہی نہیں یار تم کو کہاں کہاں ڈھونڈا جاؤ تم سے میں بولتا ہی نہیں یاد ہے جو اسی کو یاد کرو ہجر کی دوسری دوا ہی نہیں

— فہمی بدایونی