سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں یہاں سیکڑوں کارواں اور بھی ہیں قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں یہاں اب مرے رازداں اور بھی ہیں
کون رکھے گا ہمیں یاد اس دور خود غرضی میں
کون رکھے گا ہمیں یاد اس دور خود غرضی میں حالات ایسے ہیں کہ لوگوں کو خدا یاد نہیں ہم کون ہیں کیا ہیں باخدا یاد نہیں اپنے اسلاف کی کوئی بھی ادا یاد نہیں ہے اگر یاد تو کافر کے ترانے ہی بس ہے اگر نہیں ياد تو مسجد کی صدا یاد نہیں بنت حوا کو نچاتے ہیں سر عام محفل میں کتنے سنگدل ہیں رسم حیاء یاد نہیں آج اپنی ذلت کا سبب یہی ہے شاید سب کچھ یاد ہے مگر خدا یاد نہیں