سپیکرز
عون کبیر کا پیش کردہ کلام
دل سوز سے خالی ہے نگہ پاک نہیں ہے
دل سوز سے خالی ہے نگہ پاک نہیں ہے پھر اس میں عجب کیا کہ تو بے باک نہیں ہے ہے ذوق تجلی بھی اسی خاک میں پنہاں غافل تو نرا صاحب ادراک نہیں ہے وہ آنکھ کہ ہے سرمۂ افرنگ سے روشن پرکار و سخن ساز ہے نمناک نہیں ہے کیا صوفی و ملا کو خبر میرے جنوں کی ان کا سر دامن بھی ابھی چاک نہیں ہے کب تک رہے محکومئ انجم میں مری خاک یا میں نہیں یا گردش افلاک نہیں ہے بجلی ہوں نظر کوہ و بیاباں پہ ہے میری میرے لیے شایاں خس و خاشاک نہیں ہے عالم ہے فقط مومن جانباز کی میراث مومن نہیں جو صاحب لولاک نہیں ہے
عقل گو آستاں سے دور نہیں
عقل گو آستاں سے دور نہیں اس کی تقدیر میں حضور نہیں دل بینا بھی کر خدا سے طلب آنکھ کا نور دل کا نور نہیں علم میں بھی سرور ہے لیکن یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں کیا غضب ہے کہ اس زمانے میں ایک بھی صاحب سرور نہیں اک جنوں ہے کہ با شعور بھی ہے اک جنوں ہے کہ با شعور نہیں ناصبوری ہے زندگی دل کی آہ وہ دل کہ ناصبور نہیں بے حضوری ہے تیری موت کا راز زندہ ہو تو تو بے حضور نہیں ہر گہر نے صدف کو توڑ دیا تو ہی آمادۂ ظہور نہیں ارنی میں بھی کہہ رہا ہوں مگر یہ حدیث کلیم و طور نہیں