علامہ اقبال

مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں (علامہ اقبال)

03 December 2025

25سپیکرز
285لسنرز

سپیکرز

عون کبیر کا پیش کردہ کلام

دل سوز سے خالی ہے نگہ پاک نہیں ہے

دل سوز سے خالی ہے نگہ پاک نہیں ہے پھر اس میں عجب کیا کہ تو بے باک نہیں ہے ہے ذوق تجلی بھی اسی خاک میں پنہاں غافل تو نرا صاحب ادراک نہیں ہے وہ آنکھ کہ ہے سرمۂ افرنگ سے روشن پرکار و سخن ساز ہے نمناک نہیں ہے کیا صوفی و ملا کو خبر میرے جنوں کی ان کا سر دامن بھی ابھی چاک نہیں ہے کب تک رہے محکومئ انجم میں مری خاک یا میں نہیں یا گردش افلاک نہیں ہے بجلی ہوں نظر کوہ و بیاباں پہ ہے میری میرے لیے شایاں خس و خاشاک نہیں ہے عالم ہے فقط مومن جانباز کی میراث مومن نہیں جو صاحب لولاک نہیں ہے

— علامہ اقبال

عقل گو آستاں سے دور نہیں

عقل گو آستاں سے دور نہیں اس کی تقدیر میں حضور نہیں دل بینا بھی کر خدا سے طلب آنکھ کا نور دل کا نور نہیں علم میں بھی سرور ہے لیکن یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں کیا غضب ہے کہ اس زمانے میں ایک بھی صاحب سرور نہیں اک جنوں ہے کہ با شعور بھی ہے اک جنوں ہے کہ با شعور نہیں ناصبوری ہے زندگی دل کی آہ وہ دل کہ ناصبور نہیں بے حضوری ہے تیری موت کا راز زندہ ہو تو تو بے حضور نہیں ہر گہر نے صدف کو توڑ دیا تو ہی آمادۂ ظہور نہیں ارنی میں بھی کہہ رہا ہوں مگر یہ حدیث کلیم و طور نہیں

— علامہ اقبال