علامہ اقبال

مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں (علامہ اقبال)

03 December 2025

25سپیکرز
285لسنرز

سپیکرز

ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام

مٹ جائے گناہوں کا تصور ہی جہاں سے اقبال

مٹ جائے گناہوں کا تصور ہی جہاں سے اقبال اگر ہو جائے ًًیقینًً کہ اللہ دیکھ رہا ہے دل پاک نہیں تو پاک ہو نہیں سکتا انسان ورنہ ابلیس کو بھی آتے تھے وضو کی فرائض بہت سر جھکانے سے نمازیں نہیں ہوتیں دل جھکانا پڑتا ہے عبادت کے لیے اقبال نے توڑ دی تسبیح اس لیے کیا گن کےنا لوں اس خدا کا جو بے حساب دیتا ہے کوئی عبادت کی چاہ میں رویا کوئی عبادت کی راہ میں رویا عجیب ہے یہ نماز محبت کا سلسلہ اقبال کوئی قضا کر کے رویا کوئی ادا کر کے رویا

— علامہ اقبال

کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں

کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں طرب آشنائے خروش ہو تو نوا ہے محرم گوش ہو وہ سرود کیا کہ چھپا ہوا ہو سکوت پردۂ ساز میں تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے ترا آئنہ ہے وہ آئنہ کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئنہ ساز میں دم طوف کرمک شمع نے یہ کہا کہ وہ اثر کہن نہ تری حکایت سوز میں نہ مری حدیث گداز میں نہ کہیں جہاں میں اماں ملی جو اماں ملی تو کہاں ملی مرے جرم خانہ خراب کو ترے عفو بندہ نواز میں نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی نہ وہ خم ہے زلف ایاز میں میں جو سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں

— علامہ اقبال