علامہ اقبال

مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں (علامہ اقبال)

03 December 2025

25سپیکرز
285لسنرز

سپیکرز

ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام

انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں

انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں یہ عاشق کون سی بستی کے یارب رہنے والے ہیں علاج درد میں بھی درد کی لذت پہ مرتا ہوں جو تھے چھالوں میں کانٹے نوک سوزن سے نکالے ہیں پھلا پھولا رہے یارب چمن میری امیدوں کا جگر کا خون دے دے کر یہ بوٹے میں نے پالے ہیں رلاتی ہے مجھے راتوں کو خاموشی ستاروں کی نرالا عشق ہے میرا نرالے میرے نالے ہیں نہ پوچھو مجھ سے لذت خانماں برباد رہنے کی نشیمن سیکڑوں میں نے بنا کر پھونک ڈالے ہیں نہیں بیگانگی اچھی رفیق راہ منزل سے ٹھہر جا اے شرر ہم بھی تو آخر مٹنے والے ہیں امید حور نے سب کچھ سکھا رکھا ہے واعظ کو یہ حضرت دیکھنے میں سیدھے سادھے بھولے بھالے ہیں مرے اشعار اے اقبالؔ کیوں پیارے نہ ہوں مجھ کو مرے ٹوٹے ہوئے دل کے یہ دردانگیز نالے ہیں

— علامہ اقبال