علامہ اقبال

مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں (علامہ اقبال)

03 December 2025

25سپیکرز
285لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سُوئے قمر

تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سُوئے قمر وہ پھٹے بادل میں بے آوازِ پا اُس کا سفر پُوچھنا رہ رہ کے اُس کے کوہ و صحرا کی خبر اور وہ حیرت دروغِ مصلحت آمیز پر آنکھ وقفِ دید تھی، لب مائلِ گُفتار تھا دل نہ تھا میرا، سراپا ذوقِ استفسار تھا

— علامہ اقبال

وہ میرا رونق محفل کہاں ہے

وہ میرا رونق محفل کہاں ہے مری بجلی مرا حاصل کہاں ہے مقام اس کا ہے دل کی خلوتوں میں خدا جانے مقام دل کہاں ہے

— علامہ اقبال

ترے شیشے میں مے باقی نہیں ہے

ترے شیشے میں مے باقی نہیں ہے بتا، کیا تُو مرا ساقی نہیں ہے سمندر سے مِلے پیاسے کو شبنم بخِیلی ہے یہ رزّاقی نہیں ہے

— علامہ اقبال

لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی

لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی ہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے ساقی تین سو سال سے ہیں ہند کے مے خانے بند اب مناسب ہے ترا فیض ہو عام اے ساقی میری مینائے غزل میں تھی ذرا سی باقی شیخ کہتا ہے کہ ہے یہ بھی حرام اے ساقی شیر مردوں سے ہوا بیشۂ تحقیق تہی رہ گئے صوفی و ملا کے غلام اے ساقی عشق کی تیغ جگردار اڑا لی کس نے علم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام اے ساقی سینہ روشن ہو تو ہے سوز سخن عین حیات ہو نہ روشن تو سخن مرگ دوام اے ساقی تو مری رات کو مہتاب سے محروم نہ رکھ ترے پیمانے میں ہے ماہ تمام اے ساقی

— علامہ اقبال