علامہ اقبال

مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں (علامہ اقبال)

03 December 2025

25سپیکرز
285لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

باغی مرید

ہم کو تو ميسر نہيں مٹي کا ديا بھي گھر پير کا بجلي کے چراغوں سے ہے روشن شہري ہو، دہاتي ہو، مسلمان ہے سادہ مانند بتاں پجتے ہيں کعبے کے برہمن نذرانہ نہيں ، سود ہے پيران حرم کا ہر خرقہء سالوس کے اندر ہے مہاجن ميراث ميں آئي ہے انھيں مسند ارشاد زاغوں کے تصرف ميں عقابوں کے نشيمن!

— علامہ اقبال

امامت

تو نے پوچھي ہے امامت کي حقيقت مجھ سے حق تجھے ميري طرح صاحب اسرار کرے ہے وہي تيرے زمانے کا امام برحق جو تجھے حاضر و موجود سے بيزار کرے موت کے آئنے ميں تجھ کو دکھا کر رخ دوست زندگي تيرے ليے اور بھي دشوار کرے دے کے احساس زياں تيرا لہو گرما دے فقر کي سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے فتنہ ملت بيضا ہے امامت اس کي جو مسلماں کو سلاطيں کا پرستار کرے

— علامہ اقبال