سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آزاد
امل خان
ایم سعید
پرشانت
حرااعوان
حسن سید
رابعہ
راجا اکرام قمر
سید جینٹلمین
شہزاد
فاران وڑائچ
فرح درویش
کریسنٹ
محمد اویس
محمد قاسم رضا
ملک
ندیم بخاری
پرشانت کا پیش کردہ کلام
تم اپنے کو خود اپنے ہی جلووں میں چھپا کے
تم اپنے کو خود اپنے ہی جلووں میں چھپا کے دیکھو نہ تماشہ مجھے دیوانہ بنا کے محروم کرم ہو گئے کیوں ہوش میں آکے بھوکے تھے ابھی ہم ترے دامن کی ہوا کے تا نگۂ شوق کی خاطر ہو جو پردہ فرمائے دیکھوں کسے پھر اس کو ہٹا کے نا قابل ترمیم ہے دستور محبت احکام بدلتے نہیں قانون وفا کے کھلنا ہے پس پرسہ حقیقت کو بھی اک دن کھیلو گے کہاں تک مجھے افسانہ بنا کے مجنوں ہی کے جلووں کا تماشہ نظر آیا دیکھا جو نقاب رخ لیلا کو ہٹا کے کم ظرف نہیں ہوں کہ بہک جاؤں نظر سے اک تجربہ کر لیجئے یہ مے بھی پلا کے ہر چند ہے داغوں سے گلستاں مرا سینہ تم پھر بھی تو معصوم ہو گل اتنے کھلا کے ہیں میری نگاہوں پہ ہزاروں کی نگاہیں دیکھوں تمہیں کس کس کی نگاہوں سے بچا کے ہر چیز مشیت کا نشانہ ہیں وہ کاملؔ سختی سے جو پابند ہیں آداب وفا کے