کامل شطاری

معراج بندگی کا وہی تو مقام ہے کامل شطاری

27 April 2026

17سپیکرز
145لسنرز

سپیکرز

پرشانت کا پیش کردہ کلام

تم اپنے کو خود اپنے ہی جلووں میں چھپا کے

تم اپنے کو خود اپنے ہی جلووں میں چھپا کے دیکھو نہ تماشہ مجھے دیوانہ بنا کے محروم کرم ہو گئے کیوں ہوش میں آکے بھوکے تھے ابھی ہم ترے دامن کی ہوا کے تا نگۂ شوق کی خاطر ہو جو پردہ فرمائے دیکھوں کسے پھر اس کو ہٹا کے نا قابل ترمیم ہے دستور محبت احکام بدلتے نہیں قانون وفا کے کھلنا ہے پس پرسہ حقیقت کو بھی اک دن کھیلو گے کہاں تک مجھے افسانہ بنا کے مجنوں ہی کے جلووں کا تماشہ نظر آیا دیکھا جو نقاب رخ لیلا کو ہٹا کے کم ظرف نہیں ہوں کہ بہک جاؤں نظر سے اک تجربہ کر لیجئے یہ مے بھی پلا کے ہر چند ہے داغوں سے گلستاں مرا سینہ تم پھر بھی تو معصوم ہو گل اتنے کھلا کے ہیں میری نگاہوں پہ ہزاروں کی نگاہیں دیکھوں تمہیں کس کس کی نگاہوں سے بچا کے ہر چیز مشیت کا نشانہ ہیں وہ کاملؔ سختی سے جو پابند ہیں آداب وفا کے

— کامل شطاری