کامل شطاری

معراج بندگی کا وہی تو مقام ہے کامل شطاری

27 April 2026

17سپیکرز
145لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

تمنا دو دلوں کی ایک ہی معلوم ہوتی ہے

تمنا دو دلوں کی ایک ہی معلوم ہوتی ہے اب ان کی ہر خوشی اپنی خوشی معلوم ہوتی ہے دلوں پر سب کے اک افسردگی معلوم ہوتی ہے تری محفل میں یہ کس کی کمی معلوم ہوتی ہے سمجھ کی چال چل جاتا ہے دیوانہ محبت کا بظاہر وہ بھی اک دیوانگی معلوم ہوتی ہے بجا ہنستا ہے گر ہنستا ہے کوئی میرے جینے پر مجھے خود زندگی اپنی ہنسی معلوم ہوتی ہے جہاں قدرت کسی سے پھیر لیتی ہے نظر اپنی وہیں انسان کی بے مائیگی معلوم ہوتی ہے یقیں محکم عزائم آہنی سعی و عمل پیہم انہیں سے آدمی کی زندگی معلوم ہوتی ہے کمینے رخ بدلتے ہیں ہوا پر تو کمینے ہیں شریفوں میں یہ کمزوری بری معلوم ہوتی ہے ذرا ٹھہرو مرے آنسو تو پورے خشک ہونے دو ابھی آنکھوں میں تھوڑی سی نمی معلوم ہوتی ہے ادھر تو آ ذرا منہ چوم لوں قربان ہو جاؤں ادائے برہمی بھی کیا بھلی معلوم ہوتی ہے یہی دل کی لگی کیا جانے کیا کیا رنگ لائے گی ابھی تو آپ کو اک دل لگی معلوم ہوتی ہے کسی کا ہر تبسم دل کے حق میں گھاؤ ہے تازہ پرانی چوٹ بھی ابھری ہوئی معلوم ہوتی ہے کھلونا ہے دل مجبور الفت ان کے ہاتھوں کا محبت کی اسی سے سادگی معلوم ہوتی ہے گھسیٹے جاتے ہیں کانٹوں میں ان کے چاہنے والے خدا جانے محبت کیوں بری معلوم ہوتی ہے جبین شوق کا جب رابطہ ہو ان کے قدموں سے انہیں سجدوں میں شان بندگی معلوم ہوتی ہے تصرف دید کے قابل ہے کاملؔ چشم ساقی کا نظر ملتے ہی دنیا دوسری معلوم ہوتی ہے

— کامل شطاری