سپیکرز
افتخار احمد کا پیش کردہ کلام
نام ہوا بدنام کسی کا
نام ہوا بدنام کسی کا نام کسی کا کام کسی کا جب سے کسی پر دل آیا ہے ختم ہوا آرام کسی کا حسن فریب عشق نہ پوچھو صید کسی کا دام کسی کا منہ میں مصری گھول رہا ہوں ہے جو زباں پر نام کسی کا تیرے قرباں اچھے ساقی پھیر نہ خالی جام کسی کا منزل حق میں تیری انا کیوں بھول نہ جا انجام کسی کا راہ وفا آسان نہیں ہے پہلے دامن تھام کسی کا میرے ہمیشہ کام آیا ہے ہر مشکل میں نام کسی کا وہ بھی کوئی بندہ جو کاملؔ صبح کسی کا شام کسی کا
اک بار ہو تو جائے محبت کسی کے ساتھ
اک بار ہو تو جائے محبت کسی کے ساتھ سب غم غلط ہیں اک غم عاشقی کے ساتھ سانسیں تو چل رہی ہیں مگر سوچتا ہوں میں اللہ ربط کیا ہے مجھے زندگی کے ساتھ ہوتا ہے اک مآل مسرت نگاہ میں ہنستا جو دیکھتا ہوں کسی کو کسی کے ساتھ آخر غم حیات کے ماتم سے فائدہ غم زندگی کے ساتھ خوشی زندگی کے ساتھ کیا پوچھتے ہو مجھ سے مرے دل کی آرزو اب میری ہر خوشی ہے تمہاری خوشی کے ساتھ جانا ہے کس کے در پہ در یار چھوڑ کر مرنا اوسی کے ساتھ ہے جینا اوسی کے ساتھ کاملؔ یہ بات یاد رکھو بلکہ لکھ رکھو خالی کبھی نہ جائے گی نسبت کسی کے ساتھ