کامل شطاری

معراج بندگی کا وہی تو مقام ہے کامل شطاری

27 April 2026

17سپیکرز
145لسنرز

سپیکرز

افتخار احمد کا پیش کردہ کلام

نام ہوا بدنام کسی کا

نام ہوا بدنام کسی کا نام کسی کا کام کسی کا جب سے کسی پر دل آیا ہے ختم ہوا آرام کسی کا حسن فریب عشق نہ پوچھو صید کسی کا دام کسی کا منہ میں مصری گھول رہا ہوں ہے جو زباں پر نام کسی کا تیرے قرباں اچھے ساقی پھیر نہ خالی جام کسی کا منزل حق میں تیری انا کیوں بھول نہ جا انجام کسی کا راہ وفا آسان نہیں ہے پہلے دامن تھام کسی کا میرے ہمیشہ کام آیا ہے ہر مشکل میں نام کسی کا وہ بھی کوئی بندہ جو کاملؔ صبح کسی کا شام کسی کا

— کامل شطاری

اک بار ہو تو جائے محبت کسی کے ساتھ

اک بار ہو تو جائے محبت کسی کے ساتھ سب غم غلط ہیں اک غم عاشقی کے ساتھ سانسیں تو چل رہی ہیں مگر سوچتا ہوں میں اللہ ربط کیا ہے مجھے زندگی کے ساتھ ہوتا ہے اک مآل مسرت نگاہ میں ہنستا جو دیکھتا ہوں کسی کو کسی کے ساتھ آخر غم حیات کے ماتم سے فائدہ غم زندگی کے ساتھ خوشی زندگی کے ساتھ کیا پوچھتے ہو مجھ سے مرے دل کی آرزو اب میری ہر خوشی ہے تمہاری خوشی کے ساتھ جانا ہے کس کے در پہ در یار چھوڑ کر مرنا اوسی کے ساتھ ہے جینا اوسی کے ساتھ کاملؔ یہ بات یاد رکھو بلکہ لکھ رکھو خالی کبھی نہ جائے گی نسبت کسی کے ساتھ

— کامل شطاری