کامل شطاری

معراج بندگی کا وہی تو مقام ہے کامل شطاری

27 April 2026

17سپیکرز
145لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

دل میں دھڑکن ہے نہ آنکھوں میں نظر باقی ہے

دل میں دھڑکن ہے نہ آنکھوں میں نظر باقی ہے پھر بھی سب کچھ ہے غم یار اگر باقی ہے اور کچھ لوٹ لے افتاد محبت کے مزے کچھ تماشا جو ابھی شعبدہ گر باقی ہے ہم کسی اور کی دہلیز پہ سر کیوں پھوڑیں سر سودا زدہ باقی ترا در باقی ہے قوت عشق پہ تکیہ بھی ہے توہین نیاز کیوں ابھی تک مری آہوں میں اثر باقی ہے جتنے در بند ہیں اللہ کرے بند رہیں تیرے بندوں کے لئے جب ترا در باقی ہے اور کچھ حق جنوں ہے تو ادا کر دیں گے ایک بھی تار گریباں میں اگر باقی ہے پستیٔ عقل ہے تاریکیٔ قسمت کا سوال شب یہ کہتی ہے کہ ہنگام سحر باقی ہے عیب کو عیب سمجھنا تو نئی بات نہیں عیب یہ بھی ہے کہ احساس ہنر باقی ہے بیڑیاں کٹ گئیں ہر پائے نگہ کی کاملؔ اب تو بے قید بس اک ذوق نظر باقی ہے

— کامل شطاری