کامل شطاری

معراج بندگی کا وہی تو مقام ہے کامل شطاری

27 April 2026

17سپیکرز
145لسنرز

سپیکرز

شہزاد کا پیش کردہ کلام

مری آرزو مرا مدعا کوئی اور اس کے سوا نہیں

مری آرزو مرا مدعا کوئی اور اس کے سوا نہیں غم یار ہے تو جہان ہے مجھے کیا کمی مجھے کیا نہیں تری بے نیازی کا فتنہ گر مجھے تجھ سے کوئی گلہ نہیں تو ہزار بار جدا رہے تری یاد دل سے جدا نہیں یہ کہاں کا روگ ہے کیا کہوں مرے دل کو چین ذرا نہیں وہ ملیں تو کوئی مرض نہیں نہ ملیں تو کوئی دوا نہیں نہیں فرق ذات و صفات میں کہ صفات جمع ہیں ذات میں میں کہیں بھی اس سے الگ نہیں وہ کہیں بھی مجھ سے جدا نہیں ترے ہاتھ میری فنا بقا ترے ہاتھ میری سزا جزہ مجھے ناز ہے کہ ترے سوا کوئی اور میرا خدا نہیں وہی ان کی شوخ تجلیاں وہی کاملؔ اور وہی بجلیاں کہے کون کیا ہیں یہ شوخیاں کہ مجال چوں و چرا نہیں

— کامل شطاری