سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آزاد
امل خان
ایم سعید
پرشانت
حرااعوان
حسن سید
رابعہ
راجا اکرام قمر
سید جینٹلمین
شہزاد
فاران وڑائچ
فرح درویش
کریسنٹ
محمد اویس
محمد قاسم رضا
ملک
ندیم بخاری
آزاد کا پیش کردہ کلام
یاد ہے شیوۂ عشق ستم ایجاد مجھے
یاد ہے شیوۂ عشق ستم ایجاد مجھے آپ یاد آئے تو پھر کچھ نہ رہا یاد مجھے رہ گئی صرف یہی ایک دعا یاد مجھے وہ سلامت رہے جس نے کیا برباد مجھے التفات نگہ یار تو یوں بھی ٹھہرا ہے بہر حال کرم حاصل بیداد مجھے رات دن ایک نیا کھیل نظر آتا ہے سنیما گھر ہے یہ سب عالم ایجاد مجھے ایک مجبور محبت کی زباں کیا کھلتی شرم رکھ لی جو نہ دی رخصت فریاد مجھے یاد آ آ کے ستانے سے بھلا کیا حاصل کیا یہ ممکن نہیں فرمائیں کبھی یاد مجھے میرے صیاد نے رکھا ہے اسیر احساں اور پابند کیا چھوڑ کے آزاد مجھے چاند وہ چاند کہ جس چاند سے قسمت چمکے عید اسی دن مری جس دن وہ کریں یاد مجھے ناز ہے جس کی غلامی پہ ازل سے کاملؔ وہ تو ہونے نہیں دے گا کبھی برباد مجھے