کامل شطاری

معراج بندگی کا وہی تو مقام ہے کامل شطاری

27 April 2026

17سپیکرز
145لسنرز

سپیکرز

آزاد کا پیش کردہ کلام

یاد ہے شیوۂ عشق ستم ایجاد مجھے

یاد ہے شیوۂ عشق ستم ایجاد مجھے آپ یاد آئے تو پھر کچھ نہ رہا یاد مجھے رہ گئی صرف یہی ایک دعا یاد مجھے وہ سلامت رہے جس نے کیا برباد مجھے التفات نگہ یار تو یوں بھی ٹھہرا ہے بہر حال کرم حاصل بیداد مجھے رات دن ایک نیا کھیل نظر آتا ہے سنیما گھر ہے یہ سب عالم ایجاد مجھے ایک مجبور محبت کی زباں کیا کھلتی شرم رکھ لی جو نہ دی رخصت فریاد مجھے یاد آ آ کے ستانے سے بھلا کیا حاصل کیا یہ ممکن نہیں فرمائیں کبھی یاد مجھے میرے صیاد نے رکھا ہے اسیر احساں اور پابند کیا چھوڑ کے آزاد مجھے چاند وہ چاند کہ جس چاند سے قسمت چمکے عید اسی دن مری جس دن وہ کریں یاد مجھے ناز ہے جس کی غلامی پہ ازل سے کاملؔ وہ تو ہونے نہیں دے گا کبھی برباد مجھے

— کامل شطاری