کامل شطاری

معراج بندگی کا وہی تو مقام ہے کامل شطاری

27 April 2026

17سپیکرز
145لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

جو دل ہو جلوہ گاہ ناز اس میں غم نہیں ہوتا

جو دل ہو جلوہ گاہ ناز اس میں غم نہیں ہوتا جہاں سرکار ہوتے ہیں وہاں ماتم نہیں ہوتا ہوس آخر ہوس ٹھہری ہوس کا ذکر ہی کیا ہے مگر جب عشق ہو جاتا ہے پھر وہ کم نہیں ہوتا جگر کے زخم بھرتے ہیں نہ دل کے داغ مٹتے ہیں محبت کی جراحت کا کہیں مرہم نہیں ہوتا مقام قرب میں بھی ہیں وہی بے تابیاں باقی کسی منزل میں ہو دل کا تڑپنا کم نہیں ہوتا غرور عبدیت بھی اللہ اللہ کچھ عجب شئے ہے ترے در کے سوا یہ سر کہیں بھی خم نہیں ہوتا تڑپنے سے ذرا سا مل تو جاتا ہے سکوں کاملؔ مگر اس طرح درد دل کسی کا کم نہیں ہوتا

— کامل شطاری