سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
بے فکر جی رہا ہوں ہر اک اعتبار سے
بے فکر جی رہا ہوں ہر اک اعتبار سے نسبت بھی کیسی چیز ہے داماں یار سے دامن رفو کروں کہ گریباں رفو کروں جوش جنوں میں کس کو سیؤں کس کے تار سے معراج بندگی کا وہی تو مقام ہے ہو رابطہ جبیں کو جہاں پائے یار سے دنیا سمجھ رہی ہے کہ ہم پیر ہو گئے خم ہو گئی کمر جو گناہوں کے بار سے اے بندۂ خدا ترا ماحول کچھ بھی ہو مایوس کیوں ہے رحمت پروردگار سے اپنی خوشی سے ترک تمنا بھی کیا کروں ٹکراؤ چاہتا نہیں منشائے یار سے کاملؔ سکون موت ہے کیوں موت مانگیے اپنی اپنا زندگی ہے دل بے قرار سے
بیت الحرم کے ساتھ نہ بیت الصنم کے ساتھ
بیت الحرم کے ساتھ نہ بیت الصنم کے ساتھ جیتا ہوں اک حقیقت بے کیف و کم کے ساتھ محسوس یہ ہوا مجھے احساس غم کے ساتھ میں اس کے دم کے ساتھ ہوں وہ میرے دم کے ساتھ آنسو سنبھل کے پھونچھئے بیمار عشق ہوں دل بھی لگا ہوا ہے میری چشم نم کے ساتھ وہ یاد کر کے روئیں گے مجھ کو تمام عمر یہ ان کے سارے ناز ہیں میرے ہی دم کے ساتھ منشائے یار کا ہوں کھلونا بنا ہوا وہ کھیلتے ہیں میرے وجود و عدم کے ساتھ ہوں ہر مآل کار سے بے فکر و مطمئن دامن بندھا ہے دامن ترک عجم کے ساتھ ممکن نہیں وہ حشر میں رسوا کرے مجھے جس کے کرم سے گزری ہے اب تک بھرم کے ساتھ مجھ بے عمل کو اہل عمل میں نہ ڈھونڈئیے رہتا ہوں اس کے دامن فضل و کرم کے ساتھ کاملؔ بروز حشر مرے سجدہ ہائے شوق مشہور ہوں گے یار کے نقش قدم کے ساتھ
غمزۂ حسن کی قسم تیرا کرم کہاں نہیں
غمزۂ حسن کی قسم تیرا کرم کہاں نہیں دیدۂ تر بتائے گا دل کو اگر زباں نہیں ایک دلیل عشق ہے آہ نہیں فغاں نہیں اس کے سوا تو اور کچھ وہم نہیں گماں نہیں عشق نے جب سمیٹ لیں حسن کی سب تجلیاں اس کی ہر ایک داستاں کیا میری داستاں نہیں محو جمال یار ہوں حسن یار ہوں نقش کمال یار ہوں ہستیٔ رائگاں نہیں کام چلے تو کیا چلے شاہد و بادہ کے بغیر رند ہی رند ہیں یہاں مجمع قدسیاں نہیں فضل کی بات اور ہے ورنہ ہیں خوش خیالیاں راہ نورد شوق اگر تیرے قدم جواں نہیں کاملؔ خستہ جاں ترا بندۂ ناتوں ترا لائق رحم ہے شہا قابل امتحاں نہیں