کامل شطاری

معراج بندگی کا وہی تو مقام ہے کامل شطاری

27 April 2026

17سپیکرز
145لسنرز

سپیکرز

ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام

بیمار محبت ہوں ترساؤ نہ صورت کو

بیمار محبت ہوں ترساؤ نہ صورت کو بھولے سے کبھی آؤ تم بھی تو عیادت کو مختار ہو تم صاحب جو چاہو کرو لیکن اتنا بھی ستانا کیا مجبور محبت کو اس قادر مطلق کے بندے ہی جو ہم ٹھہرے ہنستے ہوئے سہنا ہے ہر جبر مشیت کو جس حال میں وہ رکھیں اس حال میں ہم خوش ہیں مدت ہوئی دفنائے احساس مصیبت کو جو غم میں مسرت کی گھلنے کو ہوئے پیدا بد بخت وہ کیا جانیں خود غم کی مسرت کو اک بعد خیالی سے ہٹ کر غم فرقت کیا مفلوج نہ ہونے دو احساس معیت کو وہ پشت پناہی پر آ جاتے ہیں قوت سے چھیڑے نہ کوئی ان کے پروردۂ نسبت کو سرکار کے بندے کا بس دل ہی بھر آنا ہے آنکھوں کی نمی بس ہے تحریک عنایت کو افسانۂ ہستی میں مضمر ہے حقیقت بھی بھولو نہ کہیں کاملؔ تم اپنی حقیقت کو

— کامل شطاری